تحریر عبدالجبار دریشک
جی ایس ٹی ماچس کی ڈبی سے لے کر
ایک لگژری ایٹم تک
وصول کیا جاتا ہے لیکن کمپنیاں اور سیٹھ بابو سیل ٹیکس حکومت کو جمع نہیں کرواتے یعنی عوام کا دیا گیا ٹیکس کا پیسہ درمیان میں لگے کرپٹ فلٹرز میں پھنس جاتا ہے
عوام جتنا جی ایس ٹی روز مرہ خرید کردہ اشیاء پر ادا کرتی ہے وہی سارا کا سارا قومی خزانے میں جمع ہو جائے تو مزید عوام پر ٹیکس لگانے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی لیکن یہ ٹیکس عوام سے وصول ہونے کے باوجود قومی خزانے میں جمع نہیں ہو پاتا
حکومت بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈال کر ان سے ٹیکس وصول کرے ٹیکس کے نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے ہمارے پاس ٹیکس وصولی کا فرسودہ نظام ہے اس میں تبدیلی ضروری ہے
جی ایس ٹی ماچس کی ڈبی سے لے کر
ایک لگژری ایٹم تک
وصول کیا جاتا ہے لیکن کمپنیاں اور سیٹھ بابو سیل ٹیکس حکومت کو جمع نہیں کرواتے یعنی عوام کا دیا گیا ٹیکس کا پیسہ درمیان میں لگے کرپٹ فلٹرز میں پھنس جاتا ہے
عوام جتنا جی ایس ٹی روز مرہ خرید کردہ اشیاء پر ادا کرتی ہے وہی سارا کا سارا قومی خزانے میں جمع ہو جائے تو مزید عوام پر ٹیکس لگانے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی لیکن یہ ٹیکس عوام سے وصول ہونے کے باوجود قومی خزانے میں جمع نہیں ہو پاتا
حکومت بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈال کر ان سے ٹیکس وصول کرے ٹیکس کے نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے ہمارے پاس ٹیکس وصولی کا فرسودہ نظام ہے اس میں تبدیلی ضروری ہے

0 comments :
Post a Comment