تحریر . ملک محمد رفیع شاکر
سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی فوڈ اتھارٹی پر سخت برہم فوڈ اتھارٹیز کے پی ٹی آئی وزیر کی شامت آگئی پرویز الہی نے کہا کہ چیئرمین فوڈ اتھارٹی کون اور کیا ہے کہ وہ کسی کو معاف کر دیتا ہے۔ کسی کو دس لاکھ جرمانہ کر دیتا ہے کسی کو پانچ لاکھ جرمانہ کر دیتا ہے اور کسی کو دو لاکھ جرمانہ کر دیتا اور کسی کو چھوڑ دیتا ہے اس کے پاس ایسی کون سی چیز ہے جس سے وہ چیک کر لیتا ہے کہ اس دکاندار کی یہ چیز خراب ہے یہ ٹھیک ہے ہے اس کو تو اس چیز کا بالکل پتہ بھی نہیں ہے نہ ہی وہ اس قابل ہے یہاں پر تو ایک مشین یا لیبارٹری ہونا چاہئے اور اس کے سیمپل کو چیک کیا جانا چاہئے تھا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی والوں کا کوئی قانون نہیں ہے جس کو جب جا کے جرمانہ کر کے آ جاتے ہیں لوگوں کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے ہے اور پنجاب اسمبلی پی ٹی آئی وزیر کی اچھی خاصی بے عزتی کردی اور کہا کہ آپ بیٹھ جائیں آپ کو بولنے کی اجازت نہیں دیتا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی والوں نے پنجاب میں ایک دہشت مچائی ہوئی ہے کچھ عرصہ پہلے قلفی والے کو جاکر پچاس ہزار جرمانہ کر دیا تھا اور اس نے اپنے آپ کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی تھی اسی طرح کے بہت سے واقعات سننے میں آئے ہیں کئی لوگ پریشان ہوکر اپنا کاروبار تک چھوڑ گئے ہیں پہلے انہوں نے روزانہ کی بنیاد پر جرمانے لگائے پھر انہوں نے دکانداروں سے اربوں روپے لے کر لائسنس بنائے اب ان کی پوزیشن یہ ہے کہ ٹریفک پولیس کی طرح ان کا روزانہ کا ٹارگٹ ہوتا ہے کہ انہوں نے بیس سے تیس جرمانے یا اس سے زیادہ کرنے ہوتے ہیں چاہے کوئی مسئلہ ہو یا نہ ہو بنا لیتے ہیں یہ چیز زمین پر کیوں رکھی ہے اور یہ چیز اوپر کیوں رکھی ہے اور یہ چیز شاپر میں کیوں ہیں یہ شاپر سے باہر کیوں ہے ایسے ایسے فضول باتیں کر کے اور فضول باتوں پر جرمانے لگاتے ہیں کہ اللہ معافی اور محکمہ فوڈ اتھارٹی ان کو بے پناہ اختیارات دیتی ہے جو کہ ظلم عظیم ہے ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ صرف دو نمبری کو پکڑتے اور چھوٹی موٹی چیزوں کو مسٹیک کو غلطیوں کو درگزر کرتے ۔ جہاں پر تھوڑی سی دھول یا مٹی دیکھی تو وہاں بھی جرمانہ لگا دیا جہاں پر مکھی اڑتی نظر آئی وہاں بھی جرمانہ لگا دیا اور جہاں پے کوئی چیز نیچے رکھی تھی یا اوپر رکھی تھی یا بند رکھی تھی یا کھلی تھی اس پر جرمانہ لگا دیا یا تو یہ ان کے فوڈ اتھارٹی والوں کے فضول ترین قانون ہیں فضول ترین سسٹم ہے گندا ترین سسٹم جس سے پنجاب کے کاروباری لوگ بہت پریشان ہیں اور واقعی میں اس میں اصلاح کی ضرورت ہے قانون سازی اور اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے یہ دو نمبر کو پکڑیں اچھی بات ہے لیکن یہ جو مٹی اور مکھی اڑنے پر جرمانے کرتے ہیں اور بغیر کسی ٹیسٹنگ لیبارٹری کے چھوٹی موٹی باتوں پر یہ نہیں کرنا چاہئے اور ان کے اختیارات محدود اور ان کے خلاف مقامی سطح پر ایک عدالت ہونے چاہیے جو ان کا موقف اور دکاندار کا موقف سنے انہوں نے تو اپنی عدالتیں اور اپنے قانون بنائے ہوئے ہیں جس کو جب چاہا جتنا جرمانہ ٹھوک دیا یہ غلط ہے اور ان کا باقاعدہ تحریری ہدایات نامہ ہو ہر کاروبار کے لیے ایس او پی ہو کہ یہ شرائط پوری کریں اور جو شرائط ہوں وہ بھی قابل عمل ہوں اس وقت ان کے جو شرائط ہیں وہ ناقابل عمل ہیں اس میں دکانداروں کے نمائندوں کو بھی شامل کرکے باقاعدہ ایک ایس او پی بنانا چاہیے پنجاب فوڈ اتھارٹی میں بہت زیادہ اصلاح کی ضرورت ہے ۔۔۔۔ ملک محمد رفیع شاکر

0 comments :
Post a Comment