نیب سکینڈل کے پس پردہ محلاتی سازشیں





تحریر: شاہد ندیم احمد


نیب کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال کے حوالے سے جو کچھ سامنے آیا ہے، اس کے بہت منفی نتائج برآمد ہوں گے۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ ایسے مواد تک دسترس کسی عام آدمی کے پاس نہیں ہوتی، یہ سب کچھ جن قوتوں کے پاس ہوتا ہے، وہی بہتر جان سکتی ہیں کہ انہوں نے یہ آڈیو اور وڈیو کیوں لیک کیں اور وہ کیا چاہتے ہیں۔ اس سکینڈل کا ایک ہی منطقی نتیجہ نکلتا ہے کہ جسٹس (ر)جاوید اقبال کونیب کی سربراہی سے سبکدوش کیا جائے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جو کچھ لیک کیا جارہاہے، وہ اچانک فیصلہ نہیں ، بلکہ اس بارے میں محلاتی راہداریوں میں بہت پہلے سے کھچڑی پک رہی تھی، جسٹس (ر)جاوید اقبال پر حزب اختلاف کے رہنماﺅں کے خلاف شکنجہ کسنے کے لیے شدید دباﺅ میں تھے۔ اس دباﺅکے نتیجے میں انہوں نے کچھ قدم اٹھائے ، تاہم اپنی غیر جانبداری دکھانے کے لیے جسٹس (ر)جاوید اقبال نے فیصلہ کیا کہ پی ٹی آئی کے رہنماﺅں کے خلاف بھی کیس اٹھائے جائیں جس پر وزیر اعظم عمران خان ناخوش ہیں۔ اس کے تدارک کے لیے پہلے قدم کے طور پر نیب میں اپنی جی حضوری والا ڈپٹی چیئرمین لائے اور اب اس اسکینڈل کے ذریعے ڈاکٹر جاوید اقبال کی چھٹی کروانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کے بعد ڈپٹی چیئرمین کو فوری طور پر قائم مقام چیئرمین نیب مقرر کردیا جائے گا۔ اس سے قطع نظر کہ مذکورہ وڈیوز اور آڈیوز کتنی درست ہیں اور اس سے چیئرمین نیب کا منصب کتنامتاثر ہوا ہے، ان کے 
انکشاف کے وقت کی انتہائی اہمیت ہے۔ جسٹس (ر)جاوید اقبال کی سبکدوشی سے کس کو فائدہ پہنچے گا، اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ کس کے ذریعے سے کون یہ سب کچھ لیک کروارہا ہے۔ 

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ نیب کو ایک غیر جانبدار ادارہ رہنا چاہیے،نیب کی کارکردگی پر عدلیہ مسلسل سوالات اٹھاتی رہی ہے، اگر نیب کو درست کام کرنے کا موقع دیا جائے اور اس سے درست کام لیا جائے تو ملک کے سیدھی ڈگر پر چلنے کی امید کی جاسکتی ہے۔ جسٹس (ر)جاوید اقبال نے درست کہا ہے کہ ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں انہیں ناپسند کرتی ہیں کیوں کہ مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف تینوں ہی نیب سے اپنی مرضی کا احتساب چاہتی ہیں۔ یعنی سامنے والے کو سولی پر ٹانگ دیا جائے اور انہیں بری کردیا جائے، چونکہ جسٹس (ر)جاوید اقبال نے تحریک انصاف کی مرضی کے مطابق احتساب سے انکار کردیا تھا، اس لیے وہ سب کچھ سامنے لے آیا گیا جسے جواز بنا کر جسٹس (ر)جاوید اقبال کو نیب سے سبکدوش کیا جاسکے۔ اس کا صرف یہی فائدہ نہیں ہوگا کہ ڈاکٹر جاوید اقبال سے جان چھوٹ جائے گی ،بلکہ آنے والا بھی محتاط رہے گا اور دیے گئے املا پر خاموشی سے عملدرآمد کرتا رہے گا۔ 

عمران خان کو سمجھنا چاہیے کہ تفتیشی اداروں سے اپنی مرضی کی رپورٹیں بنوانا اور پھر عدلیہ سے اپنی مرضی کے فیصلے لینا کبھی بھی احسن نہیں رہا ہے۔ یہ تاریخ کا فیصلہ ہے کہ جس نے بھی یہ سب کچھ کیا ہے، بعد میں وہ خود بھی اسی کا شکار ہواہے۔ عمران خان کے لیے بہتر ہوگا کہ بلاامتیاز احتساب کی روایت کو قائم کریں، تاکہ آنے والے دنوں میں وہ خود بھی من پسند احتساب اور سرکار کی مرضی کے فیصلوں سے محفوظ رہ سکیں۔آصف علی زرداری اور نواز شریف بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے نیب کے کالے قانون کو اس لیے ختم نہیں کیا تھا کہ اس کے ذریعے مخالفین کو قابو کرسکیں، اب وہ خود اسی شکنجے کا شکار ہیں۔ قانون کی اچھائی اور برائی اس کے استعمال کرنے والے پر منحصر ہے، تحریک انصاف حکومت کو چاہیے کہ نیب کے ہتھیار کو ہر اس فرد کے خلاف بلا امتیاز استعمال ہونے دیں جس نے ملک کودونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ جسٹس (ر)جاوید اقبال کے خلاف مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنما عر صہ دراز سے
 مخالف مہم جاری رکھے ہوئے تھے ،اب اس میں حکمران جماعت بھی شامل ہوگئی ہے۔نیب چیئرمین سکینڈل میںابھی تک اس کا اندازہ نہیں ہوسکا ہے کہ اس ویڈیو لیک میں پس پردہ قوتوں کی کتنی مدد شامل ہے یا پھر ان کا اس پر کیا ردعمل ہے۔ ہم ایک مرتبہ پھر تمام ہی قوتوں سے گزارش کریں گے کہ فیصلے ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر نہ کریں ،بلکہ یہ دیکھیں کہ ملک کا مفاد کس میں ہے۔ نیب کے قیام کا بنیادی آئیڈیا بہترین ہے ،مگر اس کے قیام سے لے کر اب تک اسے درست استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ نیب کے ادارے کو اس کے قیام کے لیے دیے گئے تصور کے مطابق ہی چلایا جائے۔ اگر نیب کا درست استعمال کیا جاتا تو آج نہ تو پاکستان اسٹیل کی یہ حالت ہوتی اور نہ ہی پی آئی اے یوں خسارے کا شکار ہوتی، تمام ادارے فعال ہوتے، بہتر ہوگا کہ پہلے نیب کی تطہیر کی جائے اور نیب کے ان کرپٹ افسران کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے جو بدعنوانوں کے سرپرست بنے کی کوشش کررہے ہیں۔

 اس کے ساتھ ہی ملک میں بدعنوانوں کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر بلاامتیاز مہم چلائی جائے، اس امتیاز کے بغیر کہ اس میں زرداری اور نواز شریف کے ٹولوں کے ساتھ ساتھ حکومتی ار کان کے بھی نام آتے ہیں۔ ملک کو مستحکم رکھنے اور معاشی بدحالی سے نکلنے کا اس کے علاوہ اور کوئی بہترطریقہ نہیں ہے۔ اگرچہ نیب کی جانب سے پورے اسکینڈل کی دو ٹوک تردید کر دیکی جارہی ہے، تاہم اس پر انصاف کے تمام تقا ضوں کو پورا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جسٹس جاوید اقبال کے ایک مبینہ انٹر ویو پر بھی سیاسی جماعتیں کڑی تنقید کر چکی ہیں، مگر اس معاملے میں بھی یہی کہا گیا کہ جسٹس( ر)جاوید اقبال نے کسی کو انٹر ویو نہیں دیا تھا، بلکہ ایک ملاقات کو انٹر ویو کی شکل دیدی گئی۔ آج کے دور میںجعلی ویڈیو بنانا کوئی مشکل نہیں، لیکن ایک کے بعدویڈیو سیرز کا لیک ہوناخدشات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ نیب کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ یہ سب ایک بلیک میلر گروپ کا کیا دھرا ہے جس کے خلاف ملک بھر میں 42 ایف آئی آر درج ہیں اور دو افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ اس کھیل میں جس خاتون کا مین کردار ہے ،وہ خود میڈیا پر انصاف کی متلاشی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس بہت سے حقائق پر مبنی مزید ثبوت موجود ہیں۔جسٹس( ر)جاوید اقبال کوچاہئے کہ وہ اپنے خلاف تمام پروپگنڈے اور کردار کشی کے معاملے کو سپریم کورٹ میں لے جائیں ،تاکہ انصاف کے زیر سائیہ دودھ کا دودھ ،پانی کا پانی ہو نے کے ساتھ اپنے خلاف تمام محلاتی سازشوں کوبھی ناکام بناسکتے ہیں۔

Share on Google Plus

About Ghoom ja

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.
    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments :

Post a Comment