آپریشن کلین اپ ماضی کے میر جعفر آج کے مخبر




تحریر عبدالجبار دریشک
شریف خان عرصہ دراز اس ملک پر حکومت کی اور ان کے بار بار حکومت میں آنے کی وجہ سے انہوں نے ہر ادارے ہر وزارت میں اپنے لوگ بیٹھاتے گئے جس کی وہ سے ان کی جڑیں اور مضبوط ہوتی گئیں مشرف جیسا ڈکیٹیٹر ان کا کچھ نہ کر سکا بلا آخر اسے بھی مجبوراً این آر او دینا پڑا مشرف نے ایسا کیوں کیا اس کے حکومت معلومات میں اتنی گڑ بڑ کی گئی جس کی وجہ سے وہ این آر او دینے پر مجبور ہو کیونکہ ہر ادارے ہر محکمے وزارت دفاتر ہر جگہ شریف خاندان کے لگائے ہوئے لوگ بیٹھے تھے جو ہر بات شریف خاندان تک پہنچاتے تھے جس کی وجہ سے  شریف خاندان اس پر اپنی اگلی حکمت عملی تیار کرتے تھے 


اب ایسا ہی کچھ عمران خان کی حکومت کے ساتھ ہو رہا ہے  عمران خان یا اس کے وزارء کسی کام کے بارے سوچتے ہیں تو فوراً ہی شریف خاندان معلوم پڑ جاتا ہے ایسے ہی ملکی معیشت کے ساتھ ہوا ہے جو چند دنوں میں ایسے نیچے جا رہی ہے جیسے ملک پر عالمی اقتصادی پابندیاں لگا دی گئی ہوں ڈالر اور دیگر اشیاء کا بحران تو ایٹمی دھماکوں کے بعد لگے والی پابندیوں میں بھی نہیں تھا 

عمران خان نے اسد عمر کو تبدیل کر کے حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ بنایا حفیظ شیخ نے معاشی بحران کی وجہ سمجھ گئے ہیں اور چور پکڑ لیے ہیں

جس کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈارکو خبریں پہنچانے والے وزارت خزانے کے اہم افسران پکڑے گئے، نئے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے آپریشن کلین اپ کا آغاز کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا وزارت خزانہ کے اندر ایک گروپ تھا جو وقت سے پہلے اسد عمر اور کابینہ کے فیصلے اسحاق ڈار کو پہنچاتا تھا، لندن میں بیٹھ کر اسحاق ڈار اسٹاک مارکیٹ میں ہر اطلاع پہنچا دیتے تھے۔ اطلاع پہنچا دینے والے ان افسران کو مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے عہدے سے ہٹا دیا ہے، ہٹائے جانے والے افسران میں اسپیشل اسسٹنٹ ٹو وزیر خزانہ بھی شامل ہیں، ان کے علاوہ ڈپٹی سیکرٹری ٹو وزیر خزانہ، ایس او ٹو وزیر خزانہ بھی اسحاق ڈار کی ٹیم کا حصہ تھے، گزشتہ نو ماہ کے دوران ان تینوں اشخاص نے ہر فیصلہ وقت سے پہلے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ہر فیصلہ پہنچایا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان سرکاری ملازمین نے معیشت اور تحریک انصاف کی حکومت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

عمران خان کو اپنے اردگر لوگوں پر نظر رکھنی چاہیے کیونکہ اتحادی بن کر جو حکومت کے ساتھ تو شامل ہوئے ہیں لیکن ان کے مقاصد ملک و قوم کے ساتھ بھلائی نہیں بلکہ ذاتی فائدے ان کی نیت کا اصل ہیں شریف خاندان کے لگائے گئے لوگ صرف وزارت خزانہ کے بارے میں معلومات ان تک نہیں پہنچا رہے ہوں گے بلکہ ایسے لوگ ہر محکمے میں موجود ہیں آپریشن کلین اپ کو صر وزارت خزانہ تک محدود نہ کریں تمام وزارتوں محکموں میں چھان بین کی جائے خاص پنجاب میں تو ہر صورت میں کریں جو وزیر اعلی عثمان بزادر سے تعاون نہیں کر رہے جس کی وجہ یہی ہوگی کہ یہ لوگ شریف خاندان کے مخبر ہوں گے 
Share on Google Plus

About Ghoom ja

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.
    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments :

Post a Comment