میاں نواز شریف اڑان بھر نے کو تیار
تحریر:شاہد ندیم احمد
مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو بیک وقت سیاسی اور قانونی دونوں محاذوں پر مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ درست ہے کہ مسلم لیگ ن پر دبا موجود ہے اور اس میں فوری طور پر کمی آنے کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ آنے والے چند ماہ میں شریف خاندان کے مزید افراد اور مسلم لیگ ن کے سینئر راہنما سلاخوں کے پیچھے ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اسے 1999 ءکے بعد والی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے جس میں مسلم لیگ ن شریف خاندان کی عملی قیادت سے محروم ہو گئی تھی اور اسے شدید سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔مسلم لیگ( ن) مرکزی پنجاب میں ابھی تک بڑی سیاسی ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ رہی ہے اور اس کی انتخابی قوت ابھی تک بر قرار ہے۔ جنوبی پنجاب میں کس حد تک ٹوٹ پھوٹ کا سامنا کرنا پڑا، مگریہ مرکزی پنجاب میں اب بھی سب سے بڑی انتخابی قوت کے طور پر موجود ہے۔ مسلم لیگ( ن) در اصل ایک انتخابی سیاسی جماعت ہے۔ یہ سیاسی کارکنوں اور مضبوط تنظیمی ڈھانچے پر مبنی منظم جماعت نہیں ، بلکہ مضبوط انتخابی امیدواروں پر مبنی مضبوط انتخابی نیٹ ورک ہے ،یہی وجہ ہے کہ اسے مزاحمتی اور سڑکوں کی سیاست کے حوالے سے ہمیشہ مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ مذاحمتی سیاست کرنے اور سڑکوں پر حکومت کو مشکلات میں مبتلا کرنے کے لیے جس قسم کی سیاسی قوت اور تنظیم کی ضرورت ہوتی ہے ،مسلم لیگ( ن) اس سے محروم ہے۔ مسلم لیگ (ن )کی قیادت اس سے بخوبی آگاہی رکھتے ہوئے سڑکوں پر بڑے احتجاج کو منظم کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے ہوئے ہے۔
اس وقت مسلم لیگ (ن) عدالتی فیصلوں کے زیر اثر سیاسی تنہائی کا شکار ہے ،یہ تنہائی اس کی داخلی سیاست کے تضادات سے بھی جڑی ہے۔ مسلم لیگ (ن)چند عہدوں کی تقسیم کے باوجود شریف خاندان کے گرد گھومتی ہے۔ اس کے ماضی اور حال پر شریف خاندان کی بالادستی ہے اور مستقبل کی تصویر میں مریم نواز اورحمزہ شہباز کو ہی فوقیت حاصل ہوگی۔ اگرچہ مریم نواز اور حمزہ شہباز کے درمیان بھی سیاسی ٹکراو ہے،لیکن اس ٹکراو کے باوجود شریف خاندان ذہنی طور پر تیار نہیں کہ پارٹی پر گرفت ان کے خاندان کے علاوہ کسی اور کی ہونی چاہیے۔پچھلے ایک ڈیڑھ برس میں مسلم لیگ( ن )میں بیانیہ کی جنگ یا مجھے کیوں نکالا کے تناظر میں پارلیمنٹ اورجمہوریت کی بالادستی کی جنگ تھی۔ نواز شریف اورمریم نواز نے اقتدار سے بے دخلی کے بعد جو مزاحمتی بیانیہ پیش کیا، اسے بہت سے جمہوری طبقوں میں بڑی پذیرائی بھی ملی کہ نواز شریف واقعی جمہوریت کی بالادستی کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں اوراس جنگ میں جمہوری قوتوں کو ان کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے،لیکن اس مزاحمتی جنگ میں خود ان کی جماعت تقسیم تھی۔ اس تقسیم میں خود ان کے بھائی شہباز شریف مفاہمتی بیانیہ تھا۔اس مفاہمتی تقسیم کا شکار خود نواز شریف اورمریم نواز بھی ہوئے اوران کی اپنے ہی بیانیہ پر مکمل خاموشی نے ان کوبھی تنہا کیا۔ یہ تصور سیاسی طورپر مضبوط ہوا کہ نواز شریف اور مریم نواز کی خاموشی کے پیچھے ایک کہانی ہے،حالانکہ میاںشہباز شریف کی مفاہمت کی سیاست نے نواز شریف اور مریم کو ابھی تک وہ کچھ نہیں دیا جو چاہتے تھے اورنہ ہی ان کی سیاسی و قانونی مشکلات کم ہوئی ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں نواز شریف عدالت عظمیٰ سے طبی بنیادوں پر مستقل ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد پھر جیل پہنچ گئے ہیں۔ میاں نواز شریف نے عدالت عظمیٰ میں براہ راست مستقل ضمانت کی درخواست دے کر اپنے پاﺅں پر خود کلہاڑی ماری ہے ، حالاں کہ عدالت عظمیٰ نے انہیں 6 ہفتوں کی عبوری ضمانت دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ درخواست گزار مزید چارہ جوئی کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرسکتا ہے، اب میاں نواز شریف جیل میں ہیں اورشریف خاندان کے افراد جیل سے باہر رہ کر ان کی صحت میں جو خرابی پیدا ہوگئی تھی اسے دور کرنے کا جتن کررہے ہیں۔ دوسری طرف میاں شہباز شریف اپنے حریفوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر وہاں پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کا ایک بیٹا اور داماد پہلے سے موجود ہیں۔ میاں شہباز شریف نے لندن میں چند روز آرام کرنے کے بعد پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے منصب سے استعفا بھی اپنی پارٹی کو بھیج دیا ہے جس کی روشنی میں مسلم لیگ (ن) اپنی نئی صف بندی پر مجبور ہوگئی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خود شریف فیملی وقت کی نزاکت کے پیش نظرسیاست سے کنارہ کشی کا راستہ اختیار کررہی ہے۔
سیاست میں بر وقت فیصلہ سازی ہار کو جیت میں بدل سکتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ میاں برادران سوج بوجھ کے ساتھ وکٹ کے دونوں طرف کھیلتے ہوئے سیاسی حالات پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں کوشاں ہیں ۔موجودہ ساسی حالات میں بہت سے سیاسی پنڈت یہ پیش گوئی کررہے ہیںکہ نواز شریف اور مریم نواز کو اندازہ ہوگیا ہے کہ ان کا اپنا سیاسی بیانیہ جس پر انھوں نے خاموشی اختیار کرلی تھی ،وہ ہی سیاسی ہتھیار کارگر بھی ہوگا۔ یہ تاثر بھی موجود ہے کہ جو پس پردہ ڈیل کی باتیں چل رہی تھیں، اس میں وقتی ناکامی نے شریف خاندان بالخصوص نواز شریف اورمریم کو مجبور کیا کہ وہ اپنے سیاسی کنٹرول کو مضبوط بنائیں، اب جب کہ نواز شریف کا کردار بھی محدود ہورہا ہے، ایسے میں کوئی بھی تحریک یا اسٹیبلشمنٹ مخالف سیااست کے امکانات بطور مسلم لیگ ممکن نہیں جو نئے لوگ سامنے آئے ہیں وہ بھی اگر کوئی سمجھ رہا ہے کہ ڈھول بجا کر یا سیاسی لنگوٹ کس کر اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاست کا حصہ بننے جارہے ہیں یہ خوش فہمی پر مبنی سیاست ہوگی۔ اس کی ایک وجہ نواز شریف قانونی محاذ پر کمزور وکٹ پر کھڑے ہیں اور ان کی آنے والے دنوں میں قانونی پیچیدگیاں کم نہیں ،بلکہ اور زیادہ بڑھنے والی ہیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ اس بیانیہ کی جنگ کو بنیاد بنا کر اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دیاجارہا ہو کہ ہم سے ہر صورت مفاہمت یا ڈیل کی کوئی صورت نکالی جائے وگرنہ ہم سیاسی انتشار پیدا کرسکتے ہیں۔افواہیں زبان زد عام ہیں کہ ڈیل اور ڈھیل پس پردہ پچیس ارب ڈالر کے مطالبے سے پسپا ہوتے ہوئے ڈھائی ارب ڈالر پر آگئی ہے۔ یعنی میاں نواز شریف حکومت کو ڈھائی ارب ادا کردیں تو ان کی جان چھوٹ سکتی ہے۔ عمران خان بے شک یہ راگ الاپتے رہیں کہ وہ کسی کو این آر او نہیں دیں گے ،لیکن جہاںڈیل دینے والوں نے ڈھائی ارب ڈالر پررضامندی کا عندیہ دیا،انہیںالٹے پاﺅں اپنے موقف تبدیل کرنا پڑے گا۔ سنا ہے کہ ڈھائی ارب کے فارمولے پر کام ہورہا ہے، اگر معاملات طے پاگئے تو میاں نواز شریف کسی وقت بھی اڑان بھر سکتے ہیں۔ پا کستان کی ساری سیاست ہی مزاحمت کے بجائے مفاہمت پر مبنی ہے، یہاں ایک مزحمت ،دوسرا مفاہمت اور حکومت مواقف بدلنے میں دیر نہیں لگاتی ہے۔

0 comments :
Post a Comment