.
                     
تحریر . ابن فاضل  

              ہر چوتھے روز ڈی پی بدل احتجاج ہورہا ہوتا ہے. جسٹس فار فلاں… جسٹس فار فلاں
اور پھر دو دن بعد  وہی معمول.. وہی بے حسی.. 
کبھی سوچا بھی ہے کہ انصاف کیوں نہیں ہوپاتا…
 اس لئے کہ منصف بھی خائف ہے انصاف سے…. 
وہ بھی بخوبی جانتا ہے…. 
کہ اگرایک  مقدمہ میں وہ انصاف کریگا…. 
تو اس جیسے کسی دوسرے میں وہ خود بھی پھنسے گا..
حاکم بھی خائف ہے انصاف سے کہ وہ بھی چور ہے..
کوتوال بھی ڈرتا ہے انصاف سے کہ اس کا بھی دامن صاف نہیں.. 

    اورہم  اپنے جی میں جھانک کر دیکھیں…. 

همارا احتجاج بھی بس دکھاوے کا ہی ہے……..
اوپر اوپر سے . 
کیونکہ اندر سے ہم سب بھی انصاف سے خائف ہیں….. 

انصاف ہم میں سے کسی کو بھی وارا نہیں کھاتا…..

        کون ہے جو اپنی حدود میں ہے. کون بااختیار ہے جو اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کرتا.... کون امین ہے جو خائن نہیں... کونسا تاجر ہے جو سچا ہے... کون سا کاروباری ہے جو ٹیکس چور نہیں... 
 اپنے ارد گرد دیکھیں…. ایک مقدمہ میں اگر ہم مدعی ہیں تو کسی دوسرے میں ہم یا ہمارا کوئی بھائی بند کوئی رشتہ دار کوئی دوست…. نامزد ملزم…. جس کیلئے ہم ماورائے قانون آسانی تلاش کررہے ہوتے ہیں…
     
        ہم  میں کون ہے جو حلفاً کہہ سکے کہ اس نے کبھی اثرورسوخ یا پیسہ استعمال کرکے کبھی اپنے لیے آسانی نہیں خریدی.یا کبھی کسی اپنے کے لیے  قانون کی ناک نہیں مروڑی یا اس کا راستہ نہیں بدلا…… توپھر دھیرج رکھیں اب کے باری 'فرشتے' کے قاتلوں کی ہے.. ان کے رشتہ داروں کی ہے… 
زندگی میں ایک بار تو ان کا بھی حق بنتا ہے…… 
اپنے ایمان سے بتائیں… بنتابنتا ہے کہ نہیں…. 

      یا تو آج سے عہد کریں.. مجرم کوئی بھی ہو… کوئی بھی…
 بیٹا، بھائی.. دوست رشتہ دار اس کی حمایت نہیں کریں گے.. قانون کا راستہ نہیں روکیں گے… اگر ہمت ہے تو کریں وعدہ…
   عمر کا انصاف چاہیے تو اپنے بیٹے کو کوڑے مارنے کا حوصلہ بھی پیدا کریں... 
نہیں تو پھر یہ روز روز کا رونا دھونا…..  چھوڑدیں….
چھوڑ دیں یہ منافقت…. اوراور چپ چاپ برداشت کریں. 
اس معاشرہ کی  یا اپنی موت تک.

                                            
Share on Google Plus

About Ghoom ja

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.
    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments :

Post a Comment