ایک اور حادثہ
تحریر ابن فاضل
سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت ہزاروں کیمرے لگا کر اور انتہائی اعلیٰ معیار کے کنٹرول روم بنا کر ابھی ہم صرف اتنا جان لینے کے قابل ہوئے ہیں کہ حادثہ کا سبب بننے والا کون تھا. تدارک شاید ابھی بہت دور ہے.
ہم دہائیوں سے حالت جنگ میں ہیں. لیکن بحیثیت معاشرہ ہمارا ردعمل افسوس ناک ہے.ہر بار دیکھتے ہیں کہ بالخصوص پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد اور بالعموم عوام، بالکل بھی تیار نہیں ہوتے.
ایران کی پندرہ سو کلومیٹر لمبی سرحد ایراق کے ساتھ لگتی ہے. نو سو کلو میٹر لمبی سرحد بلوچستان کے ساتھ ہے. فی الحقیقت عراق اور بلوچستان، بدنام زمانہ عالمی ایجنسیوں کی آماجگاہیں ہیں. لیکن اس کے باوجود ایران میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں.ایران میں ہمارا مشاہدہ ہے کہ عام پولیس والے سے لیکر افسران تک انتہائی تربیت یافتہ اور چوکنا. ہر چھوٹے سے چھوٹے واقعہ پر کڑی نظر. دوسری طرف بدقسمتی سے ہمارے پولیس کے ناکوں پر پر چند سو کے عوض عادی مجرموں کا نکل جانا بھی معمول کی بات ہے.
میرا ایسا ماننا ہے کہ جس قدر ہمارے لوگ ذہین ہیں، اور جتنا اب تک دہشت گردی میں ہمارا نقصان ہوچکا، ہمیں تو اب تک ان حادثات کے تدارک کے کئی نظام دنیا کو دے دینے چاہئیے تھے. لیکن اب بھی ہم اس بات پر خوش ہورہے ہیں کہ حملہ آور کی فوٹیج حاصل کرلیں.
ایکس رے ریفلکشن ٹیکنالوجی سے دنیا میں بہت کام لیا جارہا ہے. ہمارے انجینئرز اس پر کام کریں. شہر کے ہر داخلی راستے پر یہ سکینرز لگے ہوں. ممکن ہی نہیں کوئی اسلحہ شہر میں داخل ہوسکے. لیکن بد قسمتی سے ہم تو عام میٹل ڈیکٹرز بھی درآمد کرنے پر مجبور ہیں.
لیکن مایوس نہیں ہونا. ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا. آئیں سب اپنے اپنے میدان میں نیک نیتی سے جانفشانی سے کام کرنے کا عہد کریں. روشن، پر امن مستقبل ہمارا منتظر ہے

0 comments :
Post a Comment