مہنگائی کے بوجھ تلے عوام کیلئے خیر کی خبر نہیں

    مہنگائی کے بوجھ تلے عوام کیلئے خیر کی خبر نہیں 


تحریر:شاہد ندیم احمد

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، پاکستان نے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط مان لی ہیں۔ حکومت کی جانب سے جس فدویانہ انداز میں آئی ایم ایف کے آگے گھٹنے ٹیک کر اس کی ہر شرط تسلیم کرنے کا عندیہ دیا جارہا ہے، اس کے پیش نظر یہ نتیجہ اخذ کرنا چنداں مشکل نہیں کہ اس ماہ مئی میں پیش ہونیوالے تحریک انصاف حکومت کے پہلے وفاقی اور صوبائی میزانیے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کیلئے خیر کی کوئی خبر لے کر نہیں آرہے ،بلکہ ان میزانیوں میں عوام پر بجلی‘ گیس اور پٹرول بم زیادہ شدت کے ساتھ گرانے کا شدومد کے ساتھ اہتمام کیا جارہا ہے۔ اسکے بعد زندہ درگور عوام مہنگائی کے عفریت کے آگے اپنی بقاءکی جنگ جیت بھی پائیں گے یا نہیں،حکومت نے اس معاملہ میں بھی مکمل بے نیازی اختیار کرلی ہے۔ اسدعمر کے وفاقی وزارت خزانہ کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے اور حفیظ شیخ کے وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد جس طرح آئی ایم ایف کی شرائط یکے بعد دیگرے تسلیم کئے جانے کا عندیہ مل رہا ہے۔ اس سے بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ اسدعمر آئی ایم ایف کے بیل آﺅٹ پیکیج کیلئے اسکی ہر شرط من و عن قبول کرنے کے حق میں نہیں تھے جس کے باعث اس پیکیج کے حصول کے امکانات معدوم ہوسکتے تھے، اس لئے وزیراعظم عمران خان کو وزارت خزانہ کا قلمدان تبدیل کرنے کی مجبوری لاحق ہوئی ،مگر آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کرتے ہوئے حکومت عوام کی جس بدحالی کی نوبت لائے گی‘ اس پر عوام کے ممکنہ ردعمل کا بھی وزیراعظم کو بخوبی ادراک ہونا چاہیے۔


 بدقسمتی سے ماضی کے حکمرانوں کی لوٹ مار اور قومی خزانے کے ساتھ کھلواڑ کا بوجھ پاکستانی عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس وقت پاکستان کے معاشی حالات انتہائی گھمبیر ہیں۔ سابق حکومتوں کے قرضے لوٹانے کے لئے مزید قرض درکار ہیں جس کے لئے دوست ممالک کے علاوہ آئی ایم ایف سے مدد لی جا رہی ہے۔ موجودہ حکومت کو اپنی پانچ سالہ مدت میں ساڑھے 37ارب ڈالر کی غیر ملکی ادائیگیاں کرنی ہیں جس میں 6ارب 60کروڑ ڈالر سود شامل ہے۔ اتنا پیسہ اگر حقیقی معنوں میں پاکستانی قوم پر خرچ ہوتا تو آج نہ صرف عوام خوشحال ہوتے ،بلکہ ہمیں کشکول اٹھا کر آئی ایم ایف کے پاس بھی نہ جانا پڑتا۔ آج مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ارکان حکومت کو آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کرنے پر آڑے ہاتھوںلے رہے ہیں، لیکن وہ اس سوال کا جواب نہیں دیتے کہ آخر ایک زرعی ملک پر یہ نوبت کیوں آئی ہے کہ وہ غیر ملکی قرضوں کی دلدل میں دھنسا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) باری باری اقتدار میں رہیں اور دونوں پارٹیوں نے ایک دوسرے کے ریکارڈ توڑتے ہوئے غیر ملکی قرضے حاصل کئے۔ 


ستم ظریفی یہ کہ قرضوں کی واپسی کے لئے کوئی میکانزم بھی تشکیل نہیں دیا جس کے باعث آج نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ آئی ایم ایف قرض دینے سے قبل اپنی کڑی شرائط پر یقین دہانی چاہتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل اپنے عوامی جلسوں میں اس بات کا بار بار عزم ظاہر کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد ٹیکس نیٹ کو بڑھائیں گے۔ ٹیکس چوری روک کر قوم کواپنے پاﺅں پر کھڑا کرینگے، اب انہیں اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ملا ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ایف بی آر میں اصلاحات لا کر ٹیکس کے نظام کو صاف و شفاف بنائیں گے۔ اگر پاکستان کے تمام شہری ٹیکس دینا شروع کر دیں تو ہم معاشی طور پر ایک مضبوط قوت بن کر ابھر سکتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطالبے کے بغیر بھی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اداروں کی بہتری، ٹیکس کی چوری اور بڑے افراد کو ٹیکس میں چھوٹ دے کر سبسڈی دینے کے سلسلے کا ازسرنو جائزہ لے ۔آئی ایم ایف اپنے قرضوں کی واپسی کے لئے ٹیکس کے دائرے کو بڑھانے پر زور دے گا، لیکن ایف بی آر کا المیہ یہ ہے کہ وہ پہلے سے موجود ٹیکس کے ہدف کو عبور نہیں کر پا رہا۔ ہمارے ہاں ٹیکس چوری کا رواج عام ہے ،بسا اوقات تو ایف بی آر اس سلسلے میں بطور سہولت کار کا کردار ادا کرتا ہے۔ ایک طرف ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونے کی آرزو کرتے ہیں، دوسری طرف ٹیکس بھی چوری کرتے ہیں، اگر ہم نے غربت ،پسماندگی اور محرومیوں کی دلدل سے نکلنا ہے تو ہر بالغ شخص کو ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ ملک خالی نعروں اور وعدوں سے چلتے ہیں نہ ہی خوشحالی بغیر کسی محنت کے آتی ہے۔ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ ہونے کے آرزو مند ہیں تو پھر ہمیں ایمانداری کے ساتھ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ حکومت باامر مجبوری آئی ایم ایف کی کڑوی گولی نگل رہی ہے، لیکن اگر ماضی کی حکومتوں کی طرح اس حکومت نے بھی قرض لے کر لمبی تان لی اور ٹیکس اصلاحات پر توجہ نہ دی تو پھر ہماری معیشت کا اللہ ہی حافظ ہے۔


اس میں شک نہیں کہ موجودہ حکومت کیلئے کڑا امتحان ہے ،مگر مشکلات پر قابو پانا اور ملک وعوام کو خوشحالی کی راہ پر کامزن کرنا بھی حکومت ہی کی ذمہ داری ہے ۔عوام دن بدن بڑھتی مہنگائی ،بے روز گاری کے ہاتھوں سخت پریشانی کا شکار ہیں ،حکومت معاشی بحران میں عالمی اداروں کی شرائط ماننے پر مجبور مہنگائی روکنے میں ناکام نظر آتی ہے، اس صورتحال میں یا تو قبرستانوں کی آبادی بڑھے گی یا مہنگائی ،بے روزگاری سے عاجز آئے عوام چھینا جھپٹی اور حکومتی اقدامات کی پرتشدد مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہونگے۔ اپوزیشن تو پہلے ہی حکومت مخالف تحریک کیلئے ایسے موقع کی تلاش میں ہے کہ عوام اپنے دکھوں اور محرومیوں کا بوجھ اٹھاتے چاروناچار سڑکوں پر آکر حکومت بدلنے پر آمادہ ہوں ،جبکہ حکومت کے مجوزہ ٹیکس اقدامات اور یوٹیلٹی بلوں میں مزید اضافہ سے عوام کی جانب سے طوفان اٹھانے کا ہی اہتمام ہورہا ہے جو حکومت مخالف تحریک کی مضبوط بنیاد بن سکتا ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسی بنیاد پر حکومت کو باور کرایا ہے کہ اگر اس نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ پارلیمنٹ میں پیش نہ کیا تو عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا جائیگا۔ حکومت کو اس معاملہ میں حالات کی نزاکت کا بہرصورت ادراک ہونا چاہیے اور اسے عوام میں پیدا ہونیوالا اضطراب ختم کرنے کیلئے اپنے پہلے وفاقی اور صوبائی میزانیوں میں عوام کو مناسب ریلیف دینے کی نوید سنانی چاہیے، بصورت دیگر اپوزیشن ایک مربوط عوامی تحریک کے ذریعے حکومت کیلئے ایسی مشکلات پیدا کر سکتی ہیں جن سے عہدہ برآہونا اس کیلئے ممکن نہیں رہے گا۔ اگر معیشت کو سنبھالنے کیلئے سخت فیصلے کرنا مقصود ہے تو ان فیصلوں کا رخ پسے پسماندہ عوام کے بجائے حکمران اشرافیہ طبقات کی جانب کیا جائے اور انہیں زیادہ سے زیادہ ٹیکس نیٹ میں لا کر ان سے واجب الادا ٹیکسوں کی وصولی یقینی بنائی جائے۔ اس طرز عمل سے آئی ایم ایف کو بھی مطمئن کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اسے تو مقررہ میعاد میں اپنے قرضوں کی بمع سود وصولی سے ہی سروکار ہے۔ یہ حکومت کی اپنی حکمت عملی ہے کہ اس نے عوام کو مار کر آئی ایم ایف کا قرض لوٹانا ہے یا بامراعات یافتہ طبقات کی جیبیں ڈھیلی کراکے عوام کو زندہ درگور ہونے سے بچانا ہے۔

Share on Google Plus

About Ghoom ja

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.
    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments :

Post a Comment