لاھور سے تاؤبٹ تک۔ سفر نامہ آخری قسط


لاھور سے تاؤبٹ تک۔

آخری قسط۔


وادی نیلم کا دلچسپ اور سنسنی خیز سفر




تصویروں سے کچھ فرصت پا کر سب لوگ سامنے ہوٹل میں جمع ہوےٗ،کھانے کا آرڈر دے کر گپ شپ اور مقابلہء جگت بازی شروع ہوا۔ہوٹل کی بالکونی سے سامنے گراؤنڈ میں موٹر سایئکل،پیچھے دریا اور ساری وادی کا منظر بڑا فسوں خیز تھا ایسے میں تازہ چکن کڑاہی نے گرماگرم روٹیوں کے ساتھ سماں باندھ دیا،سب نے خوب سیر ہوکرکھانا اور بعد میں مہکتی چاےٗ کا لطف اُٹھایا۔کھانے سے فارغ ہو کر واپس گراؤنڈ میں آےٗ اب واپسی کی تیاری تھی،جب ہم وہاں سے نکلے تو عصر کا وقت ہوچکا تھا،ہماری خواہش تھی کہ رات ہونے سے پہلے شاردا تک ضرور پہنچا جاےٗ۔اس لیے ہم قدرے تیز رفتاری سے سفر کررہے تھے،راستے میں جابجا کشمیری لوگ پیدل آتے جاتے نظر آےٗ،ان میں زیادہ تعداد نوجوان لڑکیوں اور خواتین کی تھی،کچھ اپنی بھیڑ بکریاں چرا رہی تھیں تو کچھ لکڑیوں کے گٹھے اٹھا کر اپنے گھروں کو جارہی تھیں،یہ لکڑیاں وہ جنگلات سے گھروں میں جلانے کیلیے کاٹتی تھیں،اس طرح کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے کھیتوں میں بھی عورتیں اور لڑکیاں ہی کام کرتی نظر آیئں،میں انکی جفاکشی دیکھ کر حیران ہوتا رہا..ان محنتی خواتین کو دیکھ کر مجھے لاہور کی نان کلچوں کی دلدادہ اور سٹار پلس زدہ خواتین یاد آگیئں،جنہوں نے مختلف کاموں کیلیے چار چار کام والیاں رکھی ہویئ ہیں۔پورے کشمیر میں شاذ ہی کویئ فربہ بندہ نظر آیا جبکہ اپنے ہاں کویئ سمارٹ نظر نہیں آتا۔

            کیل داخل ہونے سے پہلے مغرب ہوچکی تھی،اندھیرے کی چادر پوری وادی پر پھیلتی جارہی تھی،کچھ دیر وہاں رک کر پیچھے آنے والوں کو ساتھ ملایا،کیل سے نکلے تو آٹھ بج چکے تھے،شاردا ابھی مزید ایک گھنٹے کی مسافت پر تھا،وادی میں رات کا سفر ایک تحیر خیز تجربہ تھا،ابتدایئ راتوں کا چاند اندھیرے پر غالب آنے میں یکسر ناکام تھا،چاند کی مدھم روشنی ایک رومان پرور فضا بنا رہی تھی،سناٹے میں دریا کی لہروں کا شور تھا یا ہماری بایئکس کی دھاڑ گونج رہی تھی۔نو بجے ہم واپس کشمیر ہوٹل شاردا پہنچے،کھانے کی ابھی طلب نہ تھی اسلیے چاےٗ پر ہی اکتفا کیا،تھکاوٹ سے بُرا حال تھا،جی چاہ رہا تھا کہ رات ادھر ہی بسر کی جاےٗ لیکن سالارِقافلہ مزید سفر پر تلے تھے۔ان کا خیال تھا کہ رات کیرن بسر کی جاےٗ جو کہ مزید تین گھنٹے کا سفر تھا،بادلِ ناخواستہ پھر خود کو بایئک پر لادا اور خنکی بھری رات میں دوبارا سفر شروع 
ہوا،راستے میں بڑی آبشاروں سے دوبارا بھیگ کر گذرنا پڑابقول شاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔    

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کر جانا ہے۔                         

                        اسطرح بھیگتے ٹھٹھرتے رات ساڑھے بارہ بجے کیرن پہنچے تو وہاں پر کافی ہلا گلا چل رہا تھا،ہوٹل سیاحوں سے کھچا کھچ بھرے ہوےٗ تھے،نوجوان جوڑے ادھر اُدھر ٹہل رہے تھے،ایک ہوٹل سے کھانا کھا کر کمرے ڈھونڈنے نکلے تو پورے کیرن میں کہیں کویئ کمرہ دستیاب نہ تھا..ایسے میں شاہ جی کا تجربہ کام آیا انہوں نے بتایا کہ تھوڑا آگی ایک اچھا ہوٹل ہے وہاں چلتے ہیں۔صبح کے دو بج چکے تھے جب ہم پی سی ریزورٹ پہنچے،ہوٹل کی لوکیشن بہت شاندار تھی،سڑک سے ذرا اوپر پہاڑی پر خوبصورت بلڈنگ کھڑی تھی،نیچے کھلی پارکنگ میں بایئکس کھڑی کرکے جب ہم ریسپشن کے پاس گےٗ تو وہ بے چارے سو رہے تھے،بمشکل ان کو اٹھا کر کمرے لیے،کمرے کھلے اور آرام دہ تھے،داخل ھوتے ہی ہم جلدی ہی سوگےٗ...صبح نو بجے اُٹھے اور نہا دھوکر باہر لان میں آےٗ تو باقی لوگ بھی وہاں پر ناشتے کے انتظار میں بیٹھے تھے،سورج کی سنہری کرنوں میں وادی کا دنگ کردینے والا نظارا ہمارے سامنے تھا،لان سے نیچے سڑک،سڑک سے کچھ نیچے سبزی مایئل دریا بہہ رہا تھا،دریا کے اُس پار بلند و بالا سر سبز پہاڑ۔۔ہوٹل کی دوسری طرف اونچایئ پر کہیں کہیں اِکا دُکا گھر نظر آرہے تھے،ان شاندار نظاروں نے رات کی ساری کلفت بھلا دی تھی،ناشتہ گرم لذیذ پراٹھوں،آملیٹ اور چنوں پر مشتمل تھا،جس سے پورا انصاف کیا گیا۔فارغ ہوکر دوبارا فوٹو سیشن ہوا..بارہ بجے ہم نے وہاں سے واپسی کیلیے رختِ سفر باندھا،اپنی اپنی بایئکس کی ٹنکیاں فُل کروا کر ہم دوبارا دریاےٗ نیلم کے ہم رکاب تھے۔
دھوپ خوب چمک رہی تھی جو قدرے خنکی میں بہت بھلی لگ رہی تھی،باہر کا موسم تو اچھا تھا ہی اندر کا موسم اُس سے بھی خوب تر تھا اور میری زبان پر بیساختہ کشور کمار کا گیت مچل رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                                                                                                                                                                                                                                میرے دل نے تڑپ کے جب نام تیرا  پکار
                                             جانے کیسے  چلا آیا،موسم  یہ پیارا،پیارا!!!                

دراصل جب بندے کے اِرد گرد اتنی خوبصورتیاں گھیرا ڈالے ہوں تو اندر کا موسم تو خوبصورت ہو ہی جاتا ہے..اسلیے ماہرین صحت تجویز کرتے ہیں کہ انسان کو اچھی صحت کو برقرار رکھنے کیلیے باقاعدگی سے سیاحتی مقامات پر جانا چاہیے،اسکا انسانی صحت پر معجزاتی اثر ہوتا ہے،اور انسان بلڈ پریشر،ڈپریشن اور مایوسی جیسی بیماریوں سے بچا رہتا ہے...واپسی میں ایک دو مقامات پر ریسٹ کرکے ہم مظفر آباد کے قریب پہنچے تو ایک جگہ روک کر شاہ جی نے بتایا کہ پچھلے بڑے زلزلے میں سامنے پہاڑ پر بسا پورا گاؤں دریا میں آن گرا تھا..اس المناک سانحے کے آ ٓثار اب بھی نظر آرہے تھے،ڈھیر سارا ملبہ نیچے دریا میں گرا ہوا تھا،جسکی بنا پر اس جگہ دریا دو حصوں میں بٹا ہوا تھا،یہ سوچ کر دل افسردہ ہو گیا کہ کس طرح لمحوں میں ایک ہنستا بستا گاؤں فنا کے گھاٹ اتر گیا۔دو بجے ہم مظفر آباد کراس کرکے مری اور راولپنڈی جانے والے ہائی وے پر گامزن تھے،راستے میں کوہالہ پل ایک زبردست سیاحتی مقام آتا ہے،ہم نے بھی وہاں رُک کر دریا کے اندر پڑی کرسیوں میزوں اور چارپایئوں پر بیٹھ کر گرما گرم پکوڑے اور چاےٗ سے لطف اندوز ہوےٗ،وہاں سے نکلے تو اگلا سٹاپ زیرو پواٗنٹ مری تھا،اسی طرح رکتے چلتے،کھاتے پیتے ہم لوگ رات کافی لیٹ لاہور پہنچے اور اسطرح ایک بہت سی حسین اور کچھ تکلیف دہ  یادوں سے بھرا ایک شاندار ایڈونچر اپنے اختتام کو پہنچا۔

Share on Google Plus

About Ghoom ja

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.
    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments :

Post a Comment