تحریر عبدالجبار دریشک
مائی پیگ کے نام سے ٹوکیو جاپان میں ایک کیفے کھولا گیا ہے جس میں لوگ اپنے پالتو جانوروں کو لے جاتے ہیں وہاں جانوروں کو مکمل سروس مہیا کی جاتی ہے
مائی پیگ میں پالتو جانور کی فیس 6 ڈالر ہے جبکہ پالتو جانوروں کے ساتھ جانے والے لواحقین یعنی ان کے مالکان کے لیے الگ سے ایک حال بنایا گیا ہے جہاں ان کے لیے شرط ہے کہ کوئی مشروب لازمی لین جن میں گرم یا ٹھنڈا مشروب پانچ ڈالر کا ملتا ہے
جاپان میں پہلی بار اوسکا میں 2004میں جانوروں کا کیفے کھولا گیا تھا جاپان امریکا یا دیگر ممالک میں لوگ پالتو جانور ضرور گھر میں رکھتے ہیں جن میں بلیاں اور کتے زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں وہ اپنے کتوں کے پابند ہوتے ہیں کہ ان کا مکمل خیال رکھیں وہ اپنےپالتو کتوں کو بھاری رقم خرچ کر کے خرید لاتے ہیں اور قانون بھی ان کو پابند کرتا ہے کہ کتا پالنا ہے تو اس کا مکمل خیال رکھا جائے
انگریز خواتین کے معاملے میں غیرت مند ہوں نہ ہوں لیکن پالتو جانوروں اور کتوں کے معاملے میں بہت غیرت مند ہوتے ہیں ان کی بیوی بوائے فرینڈ کے ساتھ گھومنے جائے تو کوئی حرج نہیں لیکن ان کا پالتو کتا کسی کے ہاتھ سے بسکیٹ بھی نہ کھائے اور نہ ہی کسی غیر کے آگے دم ہلائے
ہمارے ہاں بھی پالتو جانور رکھنے کا رواج ہے ہم کتے زیادہ شوق سے پالتے ہیں تاکہ وہ دوسروں کو بھونکتے رہیں اور ضرورت کے وقت انہیں کاٹ بھی لیں جس سے کتے پال مالک کا معاشرے میں روعب بنا رہے ہمارے کتے بھی ہوٹلوں پر جاتے ہیں لیکن ان کے الگ کیفے نہیں ہوتے مالک اور کتا الگ الگ ہوٹلنگ کرتے ہیں مالک خرید کر کھاتا ہے کتا دوسروں کا بچہ ہوا کھانا اور چوسی ہوئی ہڈیاں کھاتا ہے
ہمارے ہاں کتے جلد آوارہ پن کا شکار اس لیے ہو جاتے ہیں مالک ان کو ہر اس جگہ ساتھ نہیں لے جاتے جہاں کتے کا دل کرتا ہے اس لیے کتا بے وفا مرد و عورت کی طرح بے وفائی کرتا ہے کسی اور کی چوسی ہوئی ہڈی کھاتا ہے تو اس کے آگے دم ہلانا شروع کر دیتا ہے اس لیے ایسے کتے دم زیادہ ہلاتے ہیں اور بھونکتے کم ہیں
اب سوشل میڈیا کا دور ہے اور بہت سارے کتوں نے بھی اپنے فیس بک اکاونٹ بنا رکھے ہیں زیر نظر تصویر میں بھی کتے والی آئی ڈی دیکھ سکتے ہیں اب ان میں سے کتے دم ہلانے والے کتنے ہیں اور بھونکنے والے کتنے ہیں کوئی اندازہ نہیں کبھی سوشل میڈیا پر کتوں سے پالا پڑا نہیں شاید اس تحریر کے بعد کتے پیچھے لگ جائیں
میرے اکثر دوست سوشل میڈیا کے کتوں سے پریشان رہتے ہیں کہ انہوں بے جا نوٹیفیکشن میں بھونکنے کی آوازیں سننے کو ملتی ہیں اکثر خواتین کو بھی سوشل میڈیا پر کتوں کی وجہ سے پریشانی رہتی ہے کہ کتے کمنٹ سے لے کر ان بکس تک پیچھا نہیں چھوڑتے
میرے احباب..... اکثر کتوں کی آئی ڈی سے بھونکنے کے علاوہ دم ہلانے والی پوسٹیں بھی دیکھتے ہوں گے جس سے وہ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ چوسی ہوئی ہڈی ملنے کے بعد محترم کتا صاحب نے پوسٹ کی ہے
اب نئی حکومت نے شلٹر ہوم بنا دیے ہیں تو آوارہ کتوں کا بھی کچھ سوچیں ہماری طرح کتے بھی ترقی یافتہ ممالک والوں کی قسمت پر اپنا خون جلاتے ہوں گے بچارے کب تک ہڈی کی خاطر مالک بدلتے رہیں گے

0 comments :
Post a Comment