آگ لگانے والوں کے گھر دور نہیں
تحریر؛شاہد ندیم احمد
بال آخرپاک فوج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ،ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے پشتون تحفظ موومنٹ کی غنڈہ گردی
،شورہ پشتی اور دشمن ممالک سے بھاری رقم وصول کرنے جیسے معاملات پر قانونی کاروائی کا اعلان کردیا ہے ۔پشتون تحفظ موومنٹ’پی ٹی ایم‘ کے نام سے منظر عام پر آنیوالی تنظیم بظاہر نقل مکانی کرنیوالے بے گھر افراد کی آواز نظر آتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ تنظیم ففتھ جنریشن ہائبرڈ جنگ کا ایک حصہ ہے جو پاکستان مخالف پروپیگنڈا رکھتی ہے۔ ا س تنظیم کے کرتا دھرتا پشتون کارڈ استعمال کرتے ہوئے پاکستان مخالف قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور پاکستانی عوام کے ذہنوں میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ ایجنڈا بھر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ڈی آئی ایس پی آر نے پی ٹی ایم کوتنبیہ کی تھی کہ وہ اپنی حدود میں رہ کر مطالبات کرے، بیرون ملک رابطوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ حقیقت بھی منظر عام پر آئی ہے کہ پی ٹی ایم کو افغان حکومت سے اور افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بھی حمایت حاصل ہے ،اسی وجہ سے پی ٹی ایم صر ف پاکستان حکومت اور اداروں کے خلاف ہی مظاہرے کرتی ہے،مگر امریکہ، را یا این ڈی ایس کے خلاف کوئی مظاہرہ نہیں کرتی،حالانکہ یہ ممالک اور ایجنسیاں افغانستان میں پشتونوں کے خون سے ہاتھ رنگ چکے ہیں۔ پی ٹی ایم کے منظور پشتین اور دیگر اس وقت کہاں تھے جب لوگوں کے گلے کاٹے جا رہے تھے اورسروں سے فٹبال کھیلا جاتا تھا۔ اس وقت پاک فوج نے جا کر دہشتگردوں سے لڑائی کی تھی جس کے نتیجہ میں آج حالات ٹھیک ہیں تو تحفظ کی بات کی جارہی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح عندیہ دے دیا کہ پی ٹی ایم غیروں کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں، ان کا وقت اب پورا ہو گیا،لیکن پی ٹی ایم کے عام لوگ نہیں جانتے کہ پی ٹی ایم کی قیادت اصل میں کس کے ہاتھ بک چکی ہے۔
پی ٹی ایم کوئی بڑی تنظیم نہیں تھی ،اس کا سائزبڑھانے میں خود فوج کی نرمی اور در گزری کا بڑا ہاتھ ہے ۔شاید اس وقت فوج نے دیگر معاملات میں الجھنے کے باعث درگزر کی پالیسی اپنائی ،مگر اس تاخیر نے پی ٹی ایم کو ایک عفریت بنا کر رکھ دیاہے۔اس تنظیم کی اصل اٹھاناسلام آباد میں گرینڈ جرگے کے دھرنے سے ہوئی تھی ،اس جرگے کی مقبولیت نے قومی اور بین الا قوامی میڈیا کو اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا ۔پی ٹی ایم کے آسلام آباد دھرنے کی قیادت منطور پشتین نامی شخص کے ہاتھ آئی جواپنے چند ساتھیوں کے ساتھ دھرنے میں شرکت کرنے آیا تھا ،ایک عام تاثرہے کہ منطور کو آگے بڑھانے میں بعض اداروں کا ہاتھ تھاجو کراچی دھرنا ختم کرواکر راﺅ انوار کو تحفظ دینا چاہتے تھے ،راﺅانوار کے خلاف کراچی دھرختم ہونے کے بعد آسلام آباد دھرنے میں منظور پشتین لیڈر بن گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پا کستانی اداروں کے ہاتھ سے نکل کر دہلی و کابل کے ہاتھ کا چھرا بن گیا ہے ۔سرکاری ادارے اسے دوبارہ قومی دھارے میں لانے کے لیے نرمی کا برتاﺅ کررہے تھے ،لیکن جسے اربوں روپے کے فنڈ ملنے کے ساتھ بڑی قوتوں کے نمائندوں کے ساتھ بیٹھنے کا چسکہ پڑجائے،وہ پاکستانی اداروں کو خاطر میں کیوں لائے گا ،اس نے دشمنوں کی پشت پناہی میں پاک فوج کے خلاف محاذ کھول لیا ہے ۔پاک فوج کے پاس بہت سے شواہد ہیں کہ کیسے دشمن قوتیں پی ٹی ایم کو استعمال کر رہی ہیں، اور وہ استعمال ہو رہے ہیں۔اس وقت بھارتی خفیہ ایجنسی را نے سب سے زیادہ اُمیدیں پی ٹی ایم سے باندھ رکھی ہیں۔پی ٹی ایم پا کستان میں دشمن قوتوں کا سب سے مضبوط گھوڑا بن کر سامنے آرہا ہے ،کیونکہ پا کستان کا امریکہ کو مزید یکطرفہ تعاون سے انکار پربلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔امریکی وزیر خارجہ کے نائب معاون ایلس ویلس کا پی ٹی ایم کی بلواسطہ حمایت میں کہنا ہے کہ انہیں اس تنظیم کی افغانستان سے فندنگ کا علم نہیں،ہمیں افغانستان کی سرزمین سے پا کستان کے خلاف استعمال ہونے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔اس بیان کے تنا ظر میں واضح طور پر امریکہ نے بھارت کو پا کستان میں دہشت گردی کے لئے ایک اور تھپکی دیدی ہے ۔ ملک مخالف اندرونی اور بیرونی قوتیں ہر محاذ پر مد مقابل ہیں،اس نازک صورت حال میں دانش مندانہ فیصلے کا میابی سے ہمکنار کرسکتے ہیں۔پاک فوج نے پی ٹی ایم کی مشکیں کسنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو اس کے رد عمل کے لئے بھی تیار رہنا ہو گا جو اندرونی اور بیرونی محاذ پر آئے گا ۔اس حوالے سے تیاری میں کہیں کمزوری کا پہلو پوشیدہ نظر نہیں رہنا چاہئے ،لیکن اس حوالے سے پہلا کام نقیب اللہ قتل کیس کا منصفانہ فیصلہ اور راﺅ انوار کو نشان عبرت بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے ،اس اقدام سے بہت سے جذبات ٹھندے ہو جائیں گے ۔امریکہ اور افغانستان حکومت کو بھی واضح پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ وہ بھارت کے خطرناک کھیل کا حصہ نہ بنیں ،اس کے ساتھ بھارت کو بھی باور کروانا ہو گا کہ جس آگ کی سر پرستی بڑھ چڑھ کے کررہا ہے ،وہ اس کے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ پاک فوج ہر محازذ پر دشمن کو شکست دینے کے لیے مستعد ہے ،مگرقوم کو بھی باہمی اتحاد کا مظاہرہ کر نا ہو گا۔پاک فوج کے ترجمان نے دو ٹوک الفاظ میں متذکرہ موضوعات پر پالیسی نکات کھل کر بیان کر دیئے جن پر بحث و تمحیص کی زیادہ گنجائش نہیں بنتی، لیکن ملک میں اس وقت سیاسی کشاکش کا جو ماحول بنا ہوا ہے اس کے پیش نظر حکومت اور اپوزیشن کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے اور اپوزیشن فوجی ترجمان کے بیانیے کے بعض نکات کو اپنے مخصوص زاویہ نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اداروں سے سیاسی بیانیہ نہ دلوائیں۔ پالیسی امور پر بات متعلقہ وزیر کریں۔ہم فوجی عدالتوں اور صدارتی نظام پر اپنا موقف نہیں بدلیں گے ،انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”حکومت پی ٹی ایم کا مسئلہ حل نہیں کر سکی۔ بحیثیت پاکستانی میں ان سے بات چیت کے لئے تیار ہوں، مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے سوال پر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سخت برہم ہیں ،انہوں نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں مدارس کو محکمہ تعلیم کے ماتحت کرنے کی تجویز مسترد کردی اور کہا کہ مدارس کا نصاب تیار کرنے کا کسی دوسرے کو کوئی اختیار نہیں۔ انتہاپسندی معاشرتی مرض ہے۔ اس کا دینی مدارس سے کوئی تعلق نہیں، انہوں نے اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں حکومت سے مذاکرات بند کر دے۔ قومی دفاع اور بھارت کے معاملے میں تو ساری قوم متحد و منظم ہے، مگر اندرونی معاملات میں نقطہ نظر کا اختلاف جمہوری رویوں کی بات ہے۔ موجودہ حالات کے پیش نظر جب دشمن ہر کمزوری سے فائدہ اٹھانے کا منتظر ہے توکوشش ہونی چاہئے کہ ان معاملات پر دلائل و براہین کی مدد سے قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے،باہمی انتشار دشمن کا آلہ کار بننے کے مترادف ہے ۔حکومت کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایک متفقہ لائحہ عمل کی تشکیل زیادہ مشکل نہیں ہے۔

0 comments :
Post a Comment