تحریر : طارق محمود
ایک پہیے والی الیکٹرک سائیکل ایک دفعہ چارج کرنے سے تیس سے چالیس کلومیٹر سفر طے کر سکتی ہے، بارش کے موسم یا چڑھائی والی سڑکوں پر بھی اسکی بیٹری بیس سے پچیس کلومیٹر چل ہی جاتی ہے۔
آفس میں ساتھ کام کرنے والا سویڈش پادری گزشتہ دو تین ماہ سے یہ سائیکل استعمال کررہا ہے اور اپنے گھر سے آفس صرف 14 منٹ میں پہنچ جاتا ہے اور شام کو اسی بیٹری پر واپس گھر بھی چلا جاتا ہے، یعنی ایک بار چارج کرنے سے پورا دن نکل جاتا ہے، اس سائیکل کا سائز چھوٹا ہونے کی وجہ سے وہ اسے دفتر میں کرسی کے ساتھ ایک طرف رکھ بھی دیتا ہے۔
مبلغ 6000 سویڈش کرونے مالیت کی اس سائیکل سے وہ تقریباً ایک ہزار کرونا فی مہینہ بس کارڈ کی مد میں پیسے بچا رہا ہے، اور گھر سے آفس آتے جاتے وقت نہ صرف کھلی ہوا سے لطف اندوز ہوتا ہے بلکہ روز ایک نئی کہانی بھی سناتا ہے۔ موصوف جسمانی طور پر سمارٹ ہے لیکن کچھ پیٹ آگے کو نکلا ہوا ہے، جس پر اکثر پریشان بھی ہوتا ہے اور اسی وجہ سے میٹھی چیزوں کو زہر سمجھتا ہے۔
کچھ روز پہلے اسکے مقابلے میں، میں اپنے تھوڑے سے ڈوم شیپ پیٹ کو دیکھ کر پریشان ہورہا تھا کہ اٹھارہ گھنٹے کے روزے بھی اسے کم نہیں کررہے تو اس نے طنزاً ہنس کر کہا تھا کہ اصل میں بات یہ ہے کہ تم اٹھارہ گھنٹے کا روزہ تو رکھتے ہو لیکن کھاتے اتنا ہی ہو جتنا عام دنوں میں کھانے کی روٹین ہے، ایسی صورت میں پیٹ کیسے کم ہو۔
گزشتہ روز بچارا پادری دفتر آتے ہوئے راستے میں بیلینس خراب ہونے کی وجہ سے گر گیا ہے جس سے نہ صرف اسکا ایک بازو ٹوٹ گیا ہے بلکہ ماتھے پر بھی چھ سات ٹانکے لگے ہیں، ڈاکٹر نے اسے چھ ہفتے بیڈ ریسٹ دے دی ہے، اللہ اسے شفا دے، امید ہے وہ صحت یاب ہونے پر اس شیطانی چرخہ ایک پہیے والی سائیکل کو اُونے پونے مجھے بیچ دے گا، ویسے ڈیل کرنے میں کیا حرج ہے، لیکن ایک مسئلہ ہے ٹانگ یا بازو ٹوٹنے پر پتا نہیں بعد میں ٹھیک طرح جُڑتا بھی ہے کہ نہیں۔



0 comments :
Post a Comment