صاحب ڈاکٹر حمیداللہ صاحب کے ہاتھ پر ہزاروں افراد نے اسلام قبول کیا۔ سبحان اللّٰہ
1958-1957ء میں ایک ایسا شخص ان کے پاس آیا جسے وہ کبھی فراموش نہ کر سکے۔ ان کی زندگی کا یہ معمول تھا کہ ہر روز دو چار لوگ ان کے پاس آتے اور اسلام قبول کرتے تھے۔
وہ بھی ایسا ہی دن تھا کہ ایک صاحب آئے اور کہا کہ میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے حسبِ عادت ان کو کلمہ پڑھوایا اور اسلام کا مختصر تعارف ان کے سامنے پیش کر دیا۔ اپنی بعض کتابیں انھیں دے دیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ جب بھی کوئی شخص ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا تھا وہ ضرور اس سے پوچھا کرتے کہ اسے اسلام کی کس چیز نے متاثر کیا ہے۔
1948ء سے 1996ء تک ڈاکٹر صاحب کے دستِ مبارک پر اوسطاً دو افراد روزانہ اسلام قبول کیا کرتے تھے۔ عموماً لوگ اسلام کے بارے میں اپنے جو تاثرات بیان کرتے وہ ملتے جلتے ہوتے تھے۔ ان میں نسبتاً زیادہ اہم اور نئی باتوں کو ڈاکٹر صاحب اپنے پاس قلمبند کر لیا کرتے تھے۔ اس شخص نے جو بات بتائی وہ ڈاکٹر صاحب کے بقول بڑی عجیب و غریب اور منفرد نوعیت کی تھی اور میرے لیے بھی بے حد حیرت انگیز تھی۔
اس نے جو کچھ کہا اس کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا ارشاد تھا کہ میں اسے بالکل نہیں سمجھا اور میں اس کے بارے میں کوئی فنی رائے نہیں دے سکتا۔ اس شخص نے بتایا: میرا نام ژاک ژیلبیر ہے۔ میں فرانسیسی بولنے والی دنیا کا سب سے بڑا موسیقار ہوں۔ میرے بنائے اور گائے ہوئے گانےاور ریکارڈ فرانسیسی زبان بولنے والی دنیا میں بہت مقبول ہیں۔
آج سے چند روز قبل مجھے ایک عرب سفیر کے ہاں کھانے کی دعوت میں جانے کا موقع ملا۔ جب میں وہاں پہنچا تو سب لوگ جمع ہو چکے تھے اور نہایت خاموشی سے ایک خاص انداز کی وسیقی سن رہے تھے۔ جب میں نے وہ موسیقی سنی تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے یہ موسیقی کی دنیا میں بہت ہی اونچی چیز ہے جو یہ لوگ سن رہے ہیں۔
میں نے خود آوازوں کی جو دھنیں اور ان کا جو نشیب و فراز ایجاد کیا ہے یہ موسیقی اس سے بھی بہت آگے ہے، بلکہ موسیقی کی اس سطح تک پہنچنے کے لیے ابھی دنیا کو بہت وقت درکار ہے۔ میں حیران تھا کہ آخر یہ کس شخص کی ایجاد کردہ موسیقی ہو سکتی ہے اور اس کی دھنیں آخر کس نے ترتیب دی ہیں۔ جب میں نے یہ معلوم کرنا چاہا کہ یہ دھنیں کس نے بنائی ہیں تو کسی نے مجھے اشارہ سے خاموش کر دیا۔ لیکن تھوڑی دیر بعد پھر مجھ سے رہا نہ گیا اورمیں نے پھر یہی بات پوچھی۔ لیکن وہاں موجود حاضرین نے مجھے پھر خاموش کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ اس گفتگو کے دوران میں وہ فنِ موسیقی کی کچھ اصطلاحات بھی استعمال کر رہا تھا جس سے میں واقف نہیں کیونکہ فنِ موسیقی میرا میدان نہیں۔
قصہ مختصر جب وہ موسیقی ختم ہو گئی اور وہ آواز بند ہو گئی تو پھر اس نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ سب کیا تھا؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ موسیقی نہیں تھی بلکہ قرآنِ مجید کی تلاوت ہے اور فلاں قاری کی تلاوت ہے۔ موسیقار نے کہا یقینا یہ کسی قاری کی تلاوت ہو گی اور یہ قرآن ہو گا، مگر اس کی یہ موسیقی کس نے ترتیب دی ہے اور یہ دھنیں کس کی بنائی ہوئی ہیں؟ وہاں موجود مسلمان حاضرین نے بیک زبان وضاحت کی کہ نہ یہ دھنیں کسی کی بنائی ہوئی ہیں اور نہ ہی یہ قاری صاحب موسیقی کی ابجد سے واقف ہیں۔
اس موسیقار نے جواب میں کہا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ دھنیں کسی کی بنائی ہوئی نہ ہوں۔ لیکن اسے یقین دلایا گیا کہ قرآن مجید کا کسی دھن سے یا فن موسیقی سے کبھی کوئی تعلق ہی نہیں رہا۔ یہ فنِ تجوید ہے اور ایک بالکل الگ چیز ہے۔ اس نے پھر یہ پوچھا کہ اچھا پھر مجھے یہ بتائو کہ تجوید اور قرأت کا فن کب ایجاد ہوا؟ اس پر لوگوں نے بتایا کہ یہ فن تو چودہ سو سال سے چلا آرہا ہے۔
رسول اللہﷺ نے جب لوگوں کو قرآن مجید عطا فرمایا تھا تو فن تجوید کے اصولوں کے ساتھ ہی عطا فرمایا تھا۔ اس پر موسیقار نے کہا اگر محمدﷺ نے اپنے لوگوں کو قرآنِ مجید اسی طرح سکھایا ہے جیسا کہ میں نے ابھی سنا ہے تو پھر بلاشبہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اس لیے کہ فن موسیقی کے جو قواعد و ضوابط اس طرزِ قرأت میں نظر آئے ہیں وہ اتنے اعلیٰ اور ارفع ہیں کہ دنیا ابھی وہاں تک نہیں پہنچی۔
ڈاکٹر حمید اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ میں اس بات کو سمجھنے سے قاصر تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ بعد میں میں نے اور بھی قرأ کی تلاوت میں قرآن سنا، مسجد میں جا کر سنا اور مختلف لوگوں سے پڑھوا کر سنا اور مجھے یقین ہو گیا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور اگر یہ اللہ کی کتاب ہے تو اس کے لانے والے یقینا اللہ کے رسولﷺ تھے۔ اس لیے آپ مجھے مسلمان کر لیں۔
ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اسے مسلمان کر لیا۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ وہ جو کچھ کہہ رہا تھا وہ کس حد تک درست تھا۔ اس لیے کہ میں اس فن کا آدمی نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک الجزائری مسلمان کو جو پیرس میں زیر تعلیم تھا، اس نئے موسیقار مسلمان کی دینی تعلیم کے لیے مقرر کر دیا۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد دونوں میرے پاس آئے اور کچھ پریشان سے معلوم ہوتے تھے۔ الجزائر معلم نے مجھے بتایا کہ یہ نو مسلم قرآن مجید کے بارے میں کچھ ایسے شکوک کا اظہار کر رہا ہے جن کا میرے پاس کوئی جواب نہیں۔
ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ جس بنیاد پر یہ شخص ایمان لایا تھا وہ بھی میری سمجھ میں نہیں آئی تھی، اب اس کے شکوے کا میں کیا جواب دوں گا اور کیسے دوں گا؟ لیکن اللہ کا نام لے کر پوچھا کہ بتائو تمھیں کیا شک ہے؟ اس نومسلم نے کہا کہ آپ نے مجھے بتایا تھا اور کتابوں میں بھی میں نے پڑھا ہے کہ قرآن مجید بعینہٖ اسی شکل میں آج موجود ہے جس شکل میں اس کے لانے والے پیغمبر ﷺ نے اسے صحابہ کرام کے سپرد کیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ واقعی ایسا ہی ہے۔ اب اس نے کہا کہ ان صاحب نے مجھے اب تک جتنا قرآن مجید پڑھایا ہے اس میں ایک جگہ کے بارے میں مجھے لگتا ہے کہ اس میں کوئی نہ کوئی چیز ضرور حذف ہو گئی ہے۔
اس نے بتایا کہ سورۂ نصر پڑھائی ہے اور اس میں افواجاً اور فَسَبِحً کے درمیان خلا ہے۔ جس طرح انھوں نے مجھے پڑھایا ہے وہاں افواجاً پر وقف کیا گیا ہے۔ وقف کرنے سے وہاں سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے جو نہیں ٹوٹنا چاہیے۔ جب کہ میرا فن کہتا ہے کہ یہاں خلا نہیں ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے کہ یہ سن کر میرے تو پیروں تلے سے زمین نکل گئی اور کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ اس شبہ کا کیا جواب دیں اور کس طرح مطمئن کریں۔ کہتے ہیں کہ میں نے فوراً دنیائے اسلام پر نگاہ دوڑائی تو کوئی ایک فرد ایسا نظر نہیں آیا جو فن موسیقی سے بھی واقفیت رکھتا ہو اور تجوید بھی جانتا ہو۔
ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ چند سیکنڈ کی شش و پنج کے بعد بالکل اچانک اور یکایک میرے ذہن میں ایک پرانی بات اللہ تعالیٰ نے ڈالی کہ میں اپنے بچپن میں جب مکتب میں قرآن مجید پڑھا کرتا تھا تو میرے معلم نے مجھے بتایا کہ افواجاً پر وقف نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ افواجاً کو بعد کے لفظ سے ملا کر پڑھا جائے۔ ایک مرتبہ میں نے افواجاً پر وقف کیا تھا تو اس پر انھوں نے سزا دی تھی اور سختی سے تاکید کی تھی کہ افواجاً کو آگے والے لفظ سے ملا کر پڑھا کریں۔
میں نے سوچا کہ شاید اس سے اس کا شبہ دور ہو جائے اور اطمینان ہو جائے۔ میں نے اسے بتایا کہ آپ جو پڑھانے والے ہیں وہ تجوید کے اتنے ماہر نہیں ہیں۔ دراصل یہاں اس لفظ کو غنہ کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے گا۔ ’’افواجاً فسبح‘‘ ڈاکٹر صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ وہ خوشی سے اچھل کر کھڑا ہو گیا اورانھیں گود میں لے کر کمرے میں ناچنے لگا اور کہنے لگا کہ واقعی ایسا ہی ہونا چاہیے۔
یہ سن کر اس کو میں نے دوسرے قاری کے سپرد کر دیا۔ جس نے اس شخص کو پورے قرآن پاک کی تعلیم دی۔ وہ وقتاً فوقتاً مجھ سے ملتا تھا اور سردھنتا تھا کہ واقعی یہ اللہ کی کتاب ہے۔ ژاک زیلبیر بہت اچھا مسلمان ثابت ہوا اور ایک کامیاب زندگی گزار کر 1970ء کے لگ بھگ اس کا انتقال ہو گیا
ماخوذ ۔۔ محاضراتِ قرآنی ..از ۔۔ڈاکٹر محمود احمدغازی

0 comments :
Post a Comment