سفر نامہ لاھور سے تاؤبٹ تک۔ قسط نمبر 3

قسط نمبر 3
  لاھور سے تاؤبٹ تک


تحریر : اعظم احمد

صبح دس بجے سو کر اٹھے توپچھلے سفر کی ساری تکان اتر چکی تھی اور سب لوگ اگلے سفر کیلیے پرجوش ہو کر تیار ہونے لگے،پانی بہت ٹھنڈا تھا۔ جی کڑا کر کے نہاےٗ کہ جسم کے اکڑے ہوےٗ مسلز کچھ ریلکس ہوجائیں،واقعی نہانے سے طبیعت مکمل فٹ ہوگئ ۔کمروں سے باہر کا منظر تو جیسے حاصلِ سفر تھا،بالکنی کے اسطرف جوش میں بھرا ہوا دریا،دریا کے اس پار شہر،شہر کے پیچھے پہاڑیاں اور پہاڑیوں کے اوپر چمکتا ہوا سورج....زندگی وہاں پر مکمل ہو گئ تھی۔۔سب لوگ تیار ہوکر تصویریں بنانے لگے،شاہ جی بھی اکتاےٗ بغیر فراغ دلی سے سب کی تصویریں متواتر کھینچ رہے تھے،پارکنگ جو ہوٹل کی چھت بھی تھی،باسکٹ بال کا بنا بنایا گراؤنڈ تھا جس کے دو طرف دریا اور سامنے آبادی تھی،ہوٹل سے نکلتے بارہ بج گےٗ،طے ہوا کہ ناشتہ وادی نیلم کے راستے میں کیا جاےٗ گا۔



ہوٹل سے اوپر سڑک پر آےٗ اور لوگوں سے پوچھ پاچھ کر وادی ء نیلم کے راستے پر چل نکلے۔شہر سے نکلے تو ایک بڑی وادی میں خود کو پایا،ایک گھنٹے بعد ایک خوبصورت قصبے میں ایک ہوٹل کے آگے قیام کیا،اور کھانے کا آرڈر دیا،یہاں پورے سفر کا بہترین کھانا کھایا ساتھ میں گپ شپ اور نوک جھونک بھی برابر چلتی رہی،ہوٹل والے بھی زندہ دل تھے ان سے بھی شغل میلہ ہوا،چاےٗ حسبِ معمول غضب کی تھی،یہ میرے مشاہدے اور تجربے کی بات ہے کی چاےٗ کا جو مزہ پہاڑی علاقوں میں آ تا ہے وہ دنیا میں اور کہیں پر نہیں آتا،کشمیری چاےٗ ویسے بھی مشہور ہے۔



کشمیری لوگ بھی بہت اچھے ہوتے ہیں،ہم جب سے کشمیر میں داخل ہوےٗ تھے ہر جگہ پربا اخلاق،ملنسار اور کھلے دل کے لوگوں سے واسطہ پڑا،اور ایک حیران کن چیز کا ہمیں پتہ چلا کہ پورے کشمیر میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے،آپ کی کوئ چیز جہاں پڑی ہے کئ دن تک ویسے ہی پڑی رہے گی کوئ ہاتھ نہ لگاےٗ گا،چوری ڈکیتی لڑائ دنگا ایسا کچھ بھی ادھر نہ تھا،کشمیری سادہ،صلح جو اور جفاکش لوگ تھے..اب تک مجھے انکی ایک ہی خامی نظر آئ تھی کہ بہت ضعیف الاعتقاد تھے،پیروں فقیروں کو بہت مانتے تھے،ہر چھوٹی سے چھوٹی آبادی جو چاہے دس گھروں پر مشتمل ہو وہاں پر کسی نہ کسی بزرگ کا مقبرہ ضرور ملے گا...اب ان زندہ اور گذر جانے والے پیروں اور فقیروں میں کتنے واقعی اللہ والے اور کتنے ’رانگ نمبر‘ ہیں یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔



 کھانا کھا کر ہم آگے نکل پڑے،خوبصورت وادی اور دریا ہمارے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔مظفر آباد سے چالیس کلومیٹر آگے ایک بڑے پل سے سڑک دریا کے دایئں ہاتھ سے دریا کے بائیں ہاتھ پرآ گیئ،دریا کے بیچوں بیچ کولئ بڑی کنسٹرکشن ہو رہی تھی،پاکستان اور چین کے جھنڈے لگے ہوےٗ تھے،سجاد نے بتایا کہ یہ نیلم جہلم پاور پروجیکٹ ہے جس کا سرچارج بجلی کے بلوں میں لگ کر آتا ہے...ہم لوگ دریا کے اندر زیرِتعمیر ڈیم کو بغور دیکھتے ہوےٗ آگے بڑھنے لگے۔اس علاقے میں ایک دلچسپ چیز میرے مشاہدے میں آیئ،یہاں سڑک کے ساتھ چٹانوں کا رنگ سرمئ کی بجاےٗ سبزی مائل تھا،کہیں ہلکا سبز اور کہیں تھوڑا گہرا...اور میں سوچ رہا تھا کہ ان پہاڑیوں کے نیچے پتہ نہی قدرت کے کون سے خزانے چھپے ہیں؟ شاید زمرد کی آمیزش تھی چٹانوں میں۔اس پل سے ضلع نیلم کا آغاز ہوگیا تھا،ایک بڑے بورڈ پر آگے آنے والے شہر و قصبات کا فاصلہ درج تھا،ہماری منزل ’تاؤ بٹ‘ کا فاصلہ 150 کلومیٹر تھا اور یہ وادی نیلم کا آخری کنارہ تھا،اس سے آگے مقبوضہ کشمیر تھا۔


یہاں سے کچھ آگے پہنچے تو ایک موڑ پر بڑا جمگھٹا لگا ہوا تھا،ایک بڑی آبشار اوپر پہاڑوں سے نیچے آ رہی تھی،سیاح وہاں رک کر تصویریں بنا رہے تھے،سڑک کے کنارے کافی ساری بسیں ایک لایئن میں کھڑی تھیں،پتہ چلا کہ فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور سے ٹور آیا ہوا ہے،اسی وجہ سے وہاں پر معمول سے زیادہ رونق تھی،سٹوڈنٹ لڑکیاں لڑکے خوب چہک
رہے تھے،زیادہ تر تصویریں بنا رہے تھے

کچھ،آبشار سے پانی پی رہے تھے،زیادہ منچلے پانی کے اندر گھس کر ایک دوسرے پر چھینٹے اڑا رہے تھے،الغرض خوب موج مستی کا سامان تھا،تھوڑی دیر انجواےٗ کر کے ہم پھر چل پڑے،اب وقفے وقفے سے چاندی کی طرح چمکتے ہوےٗ پانی کے آبشار سڑک پر ہمارا راستہ کاٹ رہے تھے،یہ اوپر گلیشیر کے پگھلنے سے نیچے آتے اور سڑک پر سے ہوتے ہوےٗ دریا میں مدغم  ہوجاتے،جس جگہ یہ سڑک پر گرتے اکثر وہاں سے سڑک کو بھی بہا کر ساتھ ہی لے جاتے...اس مسلہٗ کا حل یہ نکالا گیا کہ سڑک پر بڑے بڑے پتھر ڈال دیے جاتے ہیں اس سے ٹرانسپورٹ کو تو دقت ہوتی ہے لیکن سڑک نیچے دریا میں گرنے سے بچ جاتی ہے،کیئ آبشار تو اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ سڑک پر ایک نالہ سا بن جاتا ہے جس میں موٹر سایئکل کے ٹائر تک ڈوب جاتے ہیں،ہم پاؤں اوپر کرکے بمشکل پتھروں پر توازن برقرار رکھ کر گذرتے رہے،ہمارا اگلا پڑاؤ وادئ نیلم کا خوبصورت قصبہ اور سیاحتی مقام ’کیرن‘ تھا،یہاں پر دریاےٗ نیلم آبادی کے بیچ سے گذرتا ہے،ایک خوبصورت ہوٹل اور ریسٹورنٹ نیچے جاکر بلکل دریا کے اوپر بنایا گیا ھے،ہوٹل کا لان دریا کے رخ پر ہے جس میں سے ایک پختہ اور کافی لمبا تختہ دریا میں بنایا گیا ہے،اس تختے پر بہت سے لکڑی کے بنچ سیاحو ں کیلیے بنے ہوےٗ ہیں،یہ سارا ماحول اس ٹور کا ابتک کا سب سے شاندار اور دلکش نظارا تھا،فوٹو گرافی کیلیے تو یہ آیئڈیل جگہ تھی،ویک اینڈ پر راولپنڈی اسلام آباد سے بیشمار سیاح اور فیملیز ادھر کا رخ کرتے ہیں،اس وقت بھی وہاں پر سیاحوں کا میلہ سا لگا ہوا تھا


ہر عمر اور جنس کے خوشی سے چمکتے چہرے قدرت کے لازوال حسن سے محظوظ ہو رہے تھے،ایسے میں شاہ جی بھلا کیسے پیچھے رہتے،انہوں نے بھی ہمیں کافی الٹا سیدھا کر کے ڈھیروں تصویریں بنائیں،دکانوں پر بھی لوگ دھڑا دھڑ ڈرنکس،چاکلیٹ اور جوسز خرید رہے تھے۔اچھی طرح فریش ھوکر ہم یہاں سے اپنی اگلی منزل شاردا کیلیے نکل پڑے،یہ مزید اڑھایئ گھنٹے کا سفر تھا،اب فضا میں خنکی بڑھ چکی تھی اسلیے ہم نے اپنی جیکٹس وغیرہ پہن لیں تھیں۔راستے میں پھر ایک بڑی آبشار سڑک پر گر رہی تھی،اسے بھیگے بغیر عبور کرنا مشکل لگ رہا تھا،بھیگنے کا مطلب تھا اچھی خاصی ٹھنڈ میں یخ بستہ پانی کا بوٹوں میں گھس کر دانت سے دانت بجانا،حمزہ،زید،عمر وغیرہ اسے عبور کرتے ہوےٗ بھیگ چکے تھے،خوش قسمتی سے سجاد اور میں بھیگے بغیر ہی گزرنے میں کامیاب رہے،آدھا گھنٹہ سفر کرکے آگے پھر ایک بڑی آبشار کا سامنا تھا...

بقول منیر نیازی                      

 ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر!!                                     جب میں ایک دریا کے پار اترا۔۔

میرا بھیگنے کو جی نہ چاہ رہا تھا،ادھر ادھر دیکھا تو تھوڑا اوپر پیدل چلنے والوں کیلیے ایک چھوٹاسا لکڑی کاپل بنا ہوا تھا،بڑے بڑے پتھروں پر چڑھ کر پیدل پل عبور کیا جاسکتا تھا،میں نے سوچا کیوں نہ موٹر سایئکل کے ساتھ اسے عبور کرنے کی کوشش کی جاےٗ۔ اللہ کا نام لے کر پتھروں پر موٹر سایئکل چڑھائی اور توازن برقرار رکھ کرپل پر چڑھ گیا،وہ تھی تو ایک چھوٹی سی مہم..لیکن مجھے یوں لگا جیسے میں نے راکاپوشی سر کر لی ھو،پل کے اوپر موٹر  سائیکل پر بیٹھے ہوےٗ میں نے نیچے وادی اور سڑک پر کھڑے دوستوں کی تصویریں بنائیں۔

نیچے سڑک پر گذرنے والی ٹورسٹ وین کے پرجوش نوجوانوں نے ہاتھ نکال کر اور انگوٹھا کھڑا کرکے ہمیں وش کیا،میرے پیچھے پیچھے سجاد اور عمر بھی پل پر آچکے تھے،اب مجھے پل سے اترنا تھا کیونکہ ایک وقت میں دو سے زیادہ موٹر سائیکل پل پر کھڑے نہیں ھوسکتے تھے،یہاں سے نکلے تو عصر کا وقت ھوگیا تھا،شاردا ابھی مذید ایک گھنٹے کی مسافت پر تھا..کچھ اور سفر طے ھوا تو ایک بار پھر ایک کافی بڑی آبشار سڑک پر تیس فٹ تک پھیلی ہویئ تھی اور سب اس میں سے بھیگتے ہوےٗ گذر رہے تھے،میں نے پرامید نظروں سے اوپر دیکھا تولکڑی کا ایک پل موجود تو تھا لیکن بیکار۔وہ بلکل عمودی کھڑا تھا،پیدل تو جایا جاسکتا تھا لیکن موٹر سایئکل کا جانا ناممکن تھا.۔

Share on Google Plus

About Ghoom ja

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.
    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments :

Post a Comment