تحریر مظہر صدیقی ملتان
یہ آج شام افطاری سے گھنٹہ بھر پہلے کا تذکرہ ہے. میں لاہور میں عبداللہ بس ٹرمینل پر ایک نجی بس سروس کے ٹکٹ کاؤنٹر پر ملتان کی ٹکٹ کے حصول کے لیے قطار میں کھڑا تھا. میرے آگے چار پانچ آدمی ٹکٹ لینے کے لیے موجود تھے. چوں کہ مجھے ملتان جانا تھا اور اس لیے میں ملتان، ساہیوال،بہاولپور اور ڈی جی خان کے کاؤنٹر پر ٹکٹ لینے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا. ملتان کاؤنٹر سے دائیں جانب فیصل آباد کا ٹکٹ کاؤنٹر تھا. وہاں کوئی قطار نہ تھی. ایک ستر سالہ خاتون فیصل آباد کا ٹکٹ لینا چاہتی تھی لیکن اس کے پاس شناختی کارڈ نہ تھا. اندر بیٹھی کاؤنٹر لیڈی ماں جی کو ٹکٹ نہیں دے رہی تھی. اس کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈ کے بغیر ہم ٹکٹ نہیں دیتے. ہماری کمپنی نے یہ اصول بنا دیا ہے. بوڑھی ماں منت سماجت کرتی رہی، لیکن اس لیڈی نے ٹکٹ نہ دیا..
میں اپنی جگہ کھڑا کافی دیر یہ منظر دیکھتا رہا. اتنے میں میری باری بھی آ گئی. میں نے کاؤنٹر سے ملتان کا ٹکٹ خریدا. اور ماں جی کو تلاش کرنے لگا. وہ مایوس حالت میں ٹک شاپ کے باہر کھڑی مل گئیں. میں ان کے قریب گیا، سلام کیا اور ادب سے پوچھا، "ماں جی کیا آپ کو فیصل آباد کا ٹکٹ مل گیا ہے؟" نہیں بیٹا"، ان کے جواب میں درد سا تھا اور مایوسی بھی. انہوں نے سانس لیا اور پھر بولیں،" وہ لڑکی مجھے ٹکٹ نہیں دے رہی کیونکہ میرے پاس شناختی کارڈ جو نہیں ہے". وہ بتانے لگیں، کہ لاہور میں میرا بیٹا رہتا ہے اور فیصل آباد میں بیٹی، دو ہی بچے ہیں. بیٹا عمرے کے لیے گیا ہوا ہے. شناختی کارڈ میں نے اسی بیٹے کے پاس کہیں رکھا تھا. بہو نے بھی ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوئی.. فیصل آباد میں میری بیٹی کی طبیعت بہت خراب ہے. میں اس کے پاس جانا چاہتی ہوں" . میں نے عاجزی سے ایک اور سوال پوچھ لیا." اس عمر میں آپ اکیلی کیوں جارہی ہیں؟"وہ بولیں،" میں اکثر اکیلی جاتی رہتی ہوں. ویسے بھی اب فیصل آباد اور لاہور کے مابین اب پہلے سے فاصلے کم ہو گئے ہیں".
اگلے لمحے میں نے جیب سے فیصل آباد کا ٹکٹ نکالا اور انہیں دیا، میرا خیال تھا کہ وہ جلدی سے خوش ہو کر ٹکٹ لے لیں گی. لیکن انہوں نے ٹکٹ لینے سے انکار کر دیا. میں نے انہیں کہا کہ آپ میری ماں جیسی ہیں، میں نے اپنے شناختی کارڈ پر آپ کی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے ٹکٹ لیا ہے. وہ پھر بھی نہ مانیں، جب میری منت سماجت بہت بڑھ گئی تو انہوں نے پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ ٹکٹ کتنے کا ہے؟ . میں نے انہیں بتایا کہ 520 روپے کا ٹکٹ ہے. ان کے ننھے سے پرس میں 520 روپے الگ سے رکھے تھے. انہوں نے پیسے لینے کی شرط پر مجھ سے ٹکٹ لیا. ٹکٹ لینے کے بعد ان کے چہرے پر خوشی سورج کی کرنوں کی مانند روشنی بکھیرتی نظر آ رہی تھی. اس روشنی میں پھولوں کی سی خوشبو بھی تھی جو میرے دل کو معطر کرنے لگی. انہوں نے مجھے ڈھیر ساری دعائیں دیں اور سر پے ہاتھ بھی پھیرا.. دور کہیں سے، شاید جنت سے مجھے اپنی حقیقی ماں بھی مسکراتی ہوئی نظر آنے لگیں. اب جبکہ میں ملتان کی بس میں سوار ہو کر یہ سطور رقم کر رہا ہوں لیکن مجھے اس بوڑھی عورت کا ہاتھ ابھی بھی اپنے سر پہ محسوس ہو رہا ہے. کسی نے سچ کہا ہے کہ خالق بھی مخلوق کی خوشی میں خوش ہوتا ہے.

0 comments :
Post a Comment