ایک بھیکاری عورت کی سچی کہانی

ایک بھیکاری عورت کی سچی کہانی

تحریر : خواجہ مظہر صدیقی ملتان


کل دوسرا روزہ تھا. میں افطاری کے بعد نماز مغرب پڑھنے  گیا. نماز کے بعد جب دفتر پہنچا تو ایک چوبیس پچیس سالہ خاتون جو بھیک مانگتی پھر رہی تھی میرے کمرے میں آئی اور کہنے لگی کہ میں صبح سے در بدر رل رل  کر مانگتی پھر رہی ہوں. اگر آپ اجازت دیں تو آپ کے دفتر کے فرش پر بیٹھ کر بھیک کے پیسے اکٹھے کر کے گن لوں، میں نے کہا کہ تم گھر جا کر گن لو، وہ بولی، "گھر میں میرے انتظار میں بیٹھا میرا باپ مجھ سے سارے پیسے چھین لے گا. کل پہلے روزے کے سترہ سو روپے دن بھر میں جمع کیے، وہ باپ نے زبردستی لے لیے. مجھے صرف دو سو روپے دیے". وہ جلدی جلدی نوٹ سیدھے کر کے گننے لگی، سو، پچاس، بیس اور دس کے نوٹ اور سکے اس نے بیس پچیس منٹ میں گن لیے،اس نے بتایا کہ تیرہ سو بیس روپے اس کی آج کی بھیک بنی ہے، میں نے آفس بوائے سے کہہ کر اس کے لیے چائے بنوائی. اس کی خوشی قابل دید تھی، اس نے بڑی بڑی چسکیاں لے کر چائے نوش کرتی رہی.

میں اس دوران اس سے سوالات کرتا رہا، وہ مجھے جواب دیتی رہی، اس نے بتایا کہ میری عمر 24 برس ہے. ہم دو بہن بھائی ہیں. میری والدہ ڈانسر تھی. وہ اپنی جوانی میں ہی دنیا سے کوچ کر گئی، اس کے مرنے کے ایک ہفتے بعد والد نے مجھے ماں کے پیشے میں جھونک دیا. میں پندرہ سال کی تھی کہ شادی بیاہ کے مواقع پر ڈانس کرنے لگی. ایک رات لوڈ شیڈنگ کا فائدہ اٹھا کر باپ نے عزت پر ہاتھ ڈالا اور میرے چیخنے چلانے کے باوجود اسے مجھ پر ترس نہ آیا. اگلے چند روز میری حالت غیر رہی،ہسپتال میں داخل رہی. ٹھیک ہونے پر چچا ترس کھا کر اپنے گھر لے آیا.


میری بد قسمتی کہ باپ کے بعد چچا کی ہوس کا نشانہ بنی پھر والد کے گھر آ گئی، باپ نے معافی مانگی، میں پھر سے ڈانس کرنے لگی. ماں کے انتقال کے دو برس بعد شادی ہو گئی. خاوند پہلے سے نشے کا عادی تھا. اس نے مجھے بھی چرس کا عادی بنا دیا. ڈانس کے پروگراموں سے جو آمدنی ہوتی، زیادہ پیسے خاوند لیتا. والد بھی ہفتہ لینے آتے. خاوند سے تین بچے ہوئے. پچھلے برس اس  کا انتقال ہوگیا.  اس کے غم میں اب میں زیادہ نشہ کرنے لگی ہوں. ان دنوں ابا کے گھر میں رہتی ہوں.


 ابا نے کہا کہ نیکی کا مہینہ شروع ہوا ہے، بازاروں میں جا کر بھیک مانگو. باپ کے کہنے پر مجبور ہو کر بھیک مانگنے نکلی ہوں. کل سار دن شدید گرمی میں جان نکلتی محسوس ہوتی تھی. جو جمع پونجی تھی، وہ سارے پیسے ابا ہضم کر گیا . اس لیے پیسے گن کر الگ کر رہی ہوں کہ میں اس میں سے تین سو روپے ابا کو دوں گی، دو سو روپے اس ماسی کو دوں گی جس نے میرے بچوں کو سارا دن سنبھالا ہے ، تین سو روپے کا دودھ اور سودا سلف لوں گی. باقی جو بچیں گے. انہیں کہیں سنبھال رکھوں گی کہ بچوں کے عید کے کپڑے اور جوتے بھی تو لینے ہوں گے.


 میں نے کہا کہ بچوں کو سکول نہیں بھیجتی، وہ بولی پڑھ کر کیا کریں گے. دو بیٹیاں ہیں، ڈر لگتا ہے درندوں سے، کہیں نوچ نہ کھائیں. میں نے کہا تم نشہ چھوڑ دو، تمہارے بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری ہماری این جی او لے لے گی. وہ کہنے لگی کہ عید کے بعد سوچ کر آپ کے پاس آؤں گی، لیکن آپ مجھے نشہ چھوڑنے کا نہیں کہیں گے. یہ میں اپنی ماں کے غم کو بھلانے کے لیے کرتی ہوں.

Share on Google Plus

About Ghoom ja

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.
    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments :

Post a Comment