صحافت اور حدود و قیود
تحریر: ملک عبدالعزیز
شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ حضرت آپ کے علم کا معیار کیا ہے فرمایا کبھی سمند رکے کنارے گئے ہو اگر گئے ہو وہاں پر سپیاں کیسے اکٹھی کیں کہنے لگا سمند ر کے کنارے سمندر میں ہاتھ ڈالا پانی میں جو سپیاں ہاتھ آئیں نکال لیں شیخ سعدی نے فرمایا کہ میرے علم کا معیار بھی یہ ہی ہے علم ایک سمندر ہے اور میں نے اس سمندر میں ہاتھ ڈال کر چند سپیاں نکال لی ہیں۔
سوسو طرح سے کرتے ہیں جلوہ گر
گر ہوتا ہے ہم میں ایک ہنر
عجب منطق دیکھی میں نے زمانے میں
دوستوں صاحب علم آدمی کسی تعارف کا محتاج نہیں ہوتا آس کی شخصیت، لہجہ، کردار، انداز گفتگو، معلومات کا ذخیرہ کسی دوسرے شخص پر اُس کی شخصیت کے مثبت اثرات مرتب کرتا ہیں۔
محتاج ہوتے ہیں فقط وہی لوگ تختیوں کے
جو اپنے فن میں مہارت نہیں رکھتے
پچھلے چند دنوں سے سوشل میڈیا پر صحافیوں کے حوالے سے مختلف آراء پر مشتمل مضا مین نظر سے گزرے جن میں زیادہ تر جعلی صحافیوں کے حوالے سے تذکرہ کیے گئے جعلی صحافی جو حقیقی اور ورکنگ جرنلسٹوں کے ماتھے پر سیاہ دھبے کی طرح ہیں اور ادارے بغیر تعلیمی معیار کے دھڑا دھڑ پیسوں کے لالچ میں ایسے افراد کو کارڈ جاری کر ر ہے ہیں جن کا صحافت سے دور تک کا بھی واسطہ نہیں یہ جعلی صحافی ان کارڈوں کی بدولت جس طرح مختلف سرکاری اداروں اور افراد کو بلیک میل کرتے ہیں خدا کی پناہ، ا س سلسلہ میں بعض دوستوں نے باقاعدہ مثبت تحریریں سامنے لائیں (اگرچہ وہ کاپی پیسٹ تھیں) لیکن اُن کی باتیں حقائق پر مبنی تھیں اور دل کو اچھی لگیں تو ہاتھ قلم کی نبض پر چلا گیا اُن کی تحریری حقائق کے مطابق تھیں لیکن اس ساری بحث میں ایک بات جو نظر نہ آئی وہ یہ تھی کہ آخر صحافتی دائرہ کار کیا ہے یعنی ایک صحافی کی حدود و قیود کیا ہے صحافت جو کہ معاشرے کا چوتھا ستون ہے اور صحافی معاشرے کی آنکھ کان اور ناک بن کر معاشرے کے مسائل کو اپنے قلم کے لیے ذریعے اُجاگر کرتے ہیں
یہاں تک تو بات درست ہے لیکن اس سے آگے بعض صحافی اس لکیر کو عبور کرتے ہوئے معاشرتی مسائل کی اصلاح کے لیے (بہانہ بنا کر) قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور ان مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنا پورا زور لگاتے ہیں اگرچہ اس کے پیچھے اُن کے ذاتی مفادات وابسطہ ہوتے ہیں جب بات اس حد تک بڑھتی ہے تو وہ ادارے جن کا کام ایسے مسائل کا خاتمہ کرنا ہے اور حکومت اربوں روپے سالانہ اُنہیں بجٹ مہیا کرتی ہے اُن کی ضرورت ختم ہوجاتی ہے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسی طرح معاملات چلتے رہے تو پھر اداروں کا کیا فائدہ ، اگر ادارے چاہے وہ صحافی ہوں یا عدلیہ ہو یا دیگر ادارے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہیں تو بگاڑ کا باعث بنتے ہیں اور مسائل پیدا کرتے ہیں اس کی مثال اس طرح ہے کہ محکمہ پولیس جیسے ادارے کا کام جرائم کا خاتمہ ہے اور اس سلسلہ میں پولیس کا کام مجرموں کو گرفتار کر کے اُنہیں انصاف کے کٹہرے تک لانا ہے تاکہ اُنہیں اُن کے گناہوں کی سزا مل سکے اگر پولیس اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سزا کا کام بھی خود کرنے لگے تو پھر عدالتوں کا کیا فائدہ اور اُن کی کیا ضرورت رہ جائے گی اور معاشرے میں ایسی صورتحال پیدا ہوجائے گی جسے جنگل کے قانون کا نام دیا جائے گا اور مہذب معاشرہ جس کی تشکیل صدیوں کے تہذیبی عمل کے بعد ممکن ہوئی ہے پھر سے قدیم دور کے معاشرے کی جانب پلٹنا شروع ہوجائے گا ایسے معاشرہ جہاں پر انسانیت کا احترام نہ تھا بلکہ جنگل کا قانون تھا جس کا بنیادی اصول جس کی لاٹھی اُس کی بھینس سوچنے کی بات ہے

0 comments :
Post a Comment