اصل اسلام
تحریر . اعظم احمد
90 فیصد سے زائد مسلمان اور غیر مسلم ایک بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں جسے وہ دین اسلام سمجھتے ہیں وہ درحقیقت ملا ازم ہے اور ملا ازم کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں, بلکہ یہ تو ہر دور کی مذہبی پیشوائیت کا انسانوں پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لئے، اپنے وجود کو بقا دینے کے لیے،گھڑی ہوئی چیزیں اور ایک ظالمانہ نظام کا تسلسل ہے،جسے وہ چالاکی سے دین کا لبادہ اوڑھا دیتے ہیں۔سادہ لوح عوام ان کے مکر وفریب کا شکار ہوکر اپنی جانوں پر ظلم کرتی رہتی ہے اور خالص دین کی برکات سے محروم رہ جاتی ہے۔حالانکہ اللہ تعالی قرآن پاک میں ان کے مکر و فریب کا پردہ چاک فرماتے ہیں اور ایک آیت میں فرماتے ہیں کہ
"یہ تمہارے مذہبی رہنما،انکی اکثریت لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ سے بھٹکاتے ہیں"
جبکہ انہوں نے بڑی عیاری اور مکاری سے ایک اور ہی قول اپنی طرف سے گھڑ کر لوگوں کو پیش کیا ہوا ہے۔۔ یہ کہتے ہیں کہ علماء انبیاء کا ورثہ ہیں۔ اب آپ ہی غور فرمالیں کہ اللہ ان کے بارے میں کیا کہتا ہے اور یہ خود اپنے بارے میں کیا کہتے ہیں۔۔
پھر اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ "صرف ان کی پیروی کرو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وہی حق پر ہیں"
اب اس آیت کی روشنی میں دیکھ لیں کہ کتنے آپ کے مذہبی رہنما ہیں جو کوئی کاروبار یا محنت مزدوری کرتے ہیں بلکہ یہ سارا طبقہ تو عوام کے خون پسینے کی کمائی پر ہی پلتا ہے۔ان کے سارے ٹھاٹ باٹ اسی پر ہیں کہ لوگوں کو دین کے نام پر منگھڑت مذھب پر لگا کر ان سے ان کا مال اینٹھنا اور خود بغیر محنت کیے عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنا۔
ان کی کامیابی کا راز اسی میں ہے کہ یہ لوگوں کو قران پاک، اللہ کی کتاب کے نزدیک نہیں جانے دیتے یہ انہیں ڈراتے ہیں کہ تم اگر کسی عالم، کسی استاد کی رہنمائی کے بغیر قرآن کو سیکھو گے، سمجھو گے، تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ تمہیں کیا خبر ہے قرآن کی؟ خبردار اس کے نزدیک مت جانا.. پہلے یہ پڑھو, پہلے وہ پڑھو، پہلے استاد کے پاس جاؤ، کسی عالم کے پاس جاؤ، کسی مولوی کے پاس جاؤ،پہلے حدیثوں اور روایات کی بیسیوں کتابیں پڑھو، پھر تمہیں قرآن کی سمجھ آئے گی۔
یعنی نہ سو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔۔ جب کہ اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ "ہم نے تم پر آسان آسان آیتیں اتاریں اور ان کا انکار تو صرف کافر ہی کرتے ہیں"۔
اللہ پاک قرآن میں بار بار فرماتے ہیں یہ کتاب آسان ہے، مکمل ہے، مفصل ہے۔ قران میں کسی بھی جگہ پر اللہ پاک نے ایسی کوئی شرط نہیں رکھی کہ قران کو کسی استاد کے بغیر نہ پڑھنا،یا سمجھنا اس کے برعکس اللہ نے سب سے زیادہ بار یہی فرمایا ہے کہ تم اس پر غوروفکر اور تدبر کیوں نہیں کرتے۔۔کیا اللہ نے یہ صرف مولوی یا عالم سے کہا ہے یا کائنات کے ہر انسان سے؟
لیکن یہ لوگوں کو گمراہ ہوجانے سے اتنا ڈراتے ہیں کہ لوگ ڈر کے مارے خود قرآن کو سمجھنے کی بجائے انکی ہی پھیلائی ہوئی باتوں پر ایمان لے آتے ہیں اور ملائیت کو ہی دین سمجھ لیتے ہیں۔۔ اور بس، اس سے آگے پھر ان کی موجیں شروع ہوجاتی ہیں یہ اپنے من چاہے ترجمہ تفسیر لوگوں کو دیتے ہیں جو کہ صریحاً اللہ کے دین سے متصادم ہوتے ہیں اور نتیجہ؟
مسلمانوں کی حالت بد سے بدترین ہوتی جارہی ہے۔
جب اس زبوں حالی کے بارے میں ان سے پوچھا جائے تو یہ بڑی چالاکی سے لوگوں کو باور کرا دیتے ہیں کہ دنیا تو مومن کے لیے قید خانہ ہے، ایک مشقت ہے، آزمائش ہے اور یہ جو تم سارے ان کے بتائے ہوئے کام کرتے ہو ان کا نتیجہ یا ان کا صلہ تو اللہ پاک آخرت میں تمہیں دے گا۔۔ حالانکہ اللہ پاک لوگوں سے یہ فرماتے ہیں کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو، جو اللہ بندے کی مزدوری اس کے پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دینے کا حکم دے رہے ہیں وہ اپنی مزدوری لوگوں کو آخرت میں دے گا؟ یہ کیسا انصاف ہوگا؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ کیا اس اللہ کے خزانوں میں کوئی کمی ہے جو لوگوں کو معاوضہ یہاں نہیں دے سکتا؟ جب کہ وہ لوگوں سے تو یہی کہہ رہا ہے کہ مزدور کا معاوضہ فورا دو اور خود وہ اس بات پر عمل نہیں کرے گا۔۔ یہ بھلا کیسے ممکن ہے؟
یہ سب ان کے پھیلائے ہوئے مکروفریب کے جال ہیں۔جبکہ سادہ لوح عوام ان کے پیچھے چلنے والے وہ یہ بھی نہیں سوچتے اور کبھی ان سے یہ سوال نہیں کرتے کہ اگر دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے آزمائش ہے مشقت ہے تو پھر آپ کیوں اتنی بڑی بڑی گاڑیوں اور محلات میں عیش کی زندگی بسر کررہے ہیں؟
ان جیسے علماء کی بے شمار مثالیں ہیں کسی کو بھی لے لیں علامہ طاہرالقادری کو ہی لے لیں،یہ جھنگ کے غریب پنساری کا بیٹا، دو مرلے کے گھر میں پیدا ہوا سات آٹھ بہن بھائی، غربت کی چکی میں پسنے والے آج بغیر کوئی کاروبار کیے کروڑوں اربوں کا مالک، محلات، شاہانہ زندگی بسر کرتا ہے اور لوگوں کے دیئے ہوئے چندوں سے اس نے خود ہی اپنے سب بیوی بچوں اپنی بیٹیوں،بہوؤں کی کروڑوں روپے تنخواہیں مقرر کر رکھی ہیں، اسی طرح مولانا فضل الرحمن کو دیکھیں اس کا باپ ایک غریب آدمی اس کا دادا انگریز کی فوج میں ایک حوالدار اس کا باپ تانگے میں سفر کرتا تھا آج یہ چار کروڑ کی گاڑی میں گھومتا ہے اربوں روپے کی اس کی جائیدادیں ہیں جبکہ کاروبار اس کا کچھ بھی نہیں۔ اس طرح اردگرد کسی بھی بڑے عالم کو دیکھ لیں اس کا کاروبار کچھ بھی نہیں ہوگا لیکن ٹھاٹ ایسے ہونگے جیسے وہ بڑا خاندانی رئیس یا اسکی ملیں چل رہی ہیں۔۔
حیران ہوں کے لوگوں کو یہ سب باتیں نظر کیوں نہیں آتی؟
اگر ہم مسلمان اپنی حالت بدلنا چاہتے ہیں،اس ذلت وخواری سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو ہمیں خالص دین ڈھونڈنا پڑے گا جو اللہ کی کتاب میں محفوظ ہے،جو اس کی جستجو کرتا ہے،وہ آسانی سے اس تک پہنچ جاتا ہے۔اور صرف اسی کی پیروی کرو،جو تم پر وحی کیا گیا ہے،اس کو چھوڑ کر اپنے دوسرے سرپرستوں کے پیچھے مت چلو"القران

0 comments :
Post a Comment