ہم کبھی ایک قوم بن سکتے ہیں؟



تحریر : ثمینہ رشید 

فرشتہ کیس موقع پرستوں اور خوامخواہ کے نقادوں کے لئے ایک ایسا کیس ثابت ہوا جس پر سب نے اپنے اپنے راگ الاپے ۔ اس کیس سے پتہ چلا کہ کچھ گدھ نما کردار ایسے بھی ہیں جنہیں بس ایک حادثہ ہونے اور لاش ملنے کی دیر ہوتی ہے اور وہ اسپر اپنے اپنے مفادات کا سامان سجا کر بیچنا شروع ہوجاتے ہیں۔ 

سب سے پہلے جب فرشتہ کیس سامنے آیا تو سب کو حادثے کی سنگینی اور پولیس کی کوتاہی کا علم ہوا۔ چند گھنٹوں کے اندر ملک کے طول و عرض سے فرشتے کے حق میں آواز بلند ہوئی اور سوشل میڈیا ٹرینڈ نے اس کیس پر حکومت کی توجہ مبذول کرادی ۔ 

لیکن اس سے پہلے کہ حکومت اس معاملے پر کوئی ٹھوس قدم اٹھاتی ایک تنقید کا طوفان اٹھا کہ حکومت تو کچھ کر ہی نہیں رہی۔ وہی روایتی تنقید جسمیں ہر شخص خواہاں ہوتا ہے کہ حکومت فورا سے پیشتر احکامات جاری کرے ورنہ حکومت کسی کام کی نہیں۔ 

دنیا میں ہر کام کا ایک طریقہ ہوتا ہے حکومت بھی کسی ایکشن سے پہلے معاملے کو جاننے کی کوشش کرتی ہے تاکہ اصل زمے داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف اقدامات کرے ۔ اور حکومت نے معاملے پر کام شروع کرتے ہی نہ صرف زمے داران کے خلاف کاروائی کی بلکہ ایس ایچ او پر مقدمہ کرکے گرفتار بھی کرلیا ہے۔ 

اس کے بعد باری آئی ایک میڈیا چینل پر تنقید کی جسپر انویسٹیگیٹو رپورٹر نے ایک نیوز بریک کی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس پر ایک طوفان کھڑا ہوا۔ ہمارے دیسی لبرلز کو لگا کہ رپورٹر کی جو خبر بچی کے باپ کے افغانی اوریجن کے بارے میں اور جعلی دستاویزات کے حوالے سے بریک ہوئی وہ فوج کا کارنامہ ہے۔ اس کے بعد مفروضوں کے پہاڑ کھڑے کئے گئے۔ جبکہ وہ صرف ایک خبر تھی جو ایک صحافی نے اپنی تحقیقات کے نتیجے میں جانی اور  لوگوں تک پہنچائی ۔ اس سے زیادہ کا مطلب نکالنے والے خوامخواہ کے نقاد اور وہ لبرلز تھے جن کے علاقے کی بجلی بھی جائے تو انہیں فوج کی سازش لگتی ہے۔

اس ایک خبر سے سب نے اپنے اپنے معنی اخذ کرنے میں منٹ نہ لگایا۔ اکثریت کا از خود خیال تھا کہ کیونکہ یہ خبر آگئی ہے اور “فوج” نے لگوائی ہے تو اب تو اس افغانی بچی کو انصاف ملنا ہی نہیں۔ ان سارے نتائج کو اخذ کرنے والوں نے خود سے ہی میں بھی افغانی ہوں کی مہم بھی چلا ڈالی حکومت کے کسی موقف یا عملی اقدام کو جانچے بغیر
لگتا تھا ہر شخص جلدی میں ہے ۔ اسکے بعد پشتون، غیر پشتون، افغان و غیر افغان، مظلوم و غیر مظلوم کی تکرار ہوتی رہی ۔ جب کہ سوشل میڈیا پہ عوامی رد عمل اور فرشتے کے حق میں مہم ان سب خرافات سے پہلے شروع ہوئی ۔

دوسرا داؤ چلا قوم پرستوں کا جنہوں نے لاش پر سیاست کرنا شروع کی ۔ ایک محترمہ کی بے ہودہ گوئی کی ویڈیو دیکھ کر ان میں اور کرگس میں فرق مشکل ہوگیا۔ 

پی ٹی ایم والوں کو جتنا درد فرشتے کے حادثے سے ہوا وہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن دیکھنے والوں نے تو یہی دیکھا کہ ایک سال کے بعد انہیں نقیب کے بعد ایک اور لاش مل گئی جس پر وہ اپنی سیاست آگے بڑھا سکتے ہیں۔ اور انہوں نے بڑھائی بھی اب تک افغان اور غیر افغان پر بحث جاری ہے ۔

دوسری جانب حکومت نے معاملے کی نوعیت کو جانتے ہی تیز ترین اقدامات کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ہر تھوڑی دیر بعد نیوز اپڈیٹس پر حکومتی اقدامات کا علم ہوتا رہا اور اس شور کرنے والے گروہ کی امیدوں پر پانی پڑتا گیا۔
جیسے یہ حادثہ نہیں ایک تماشا تھا اور جلد ختم ہونے پر ان پر مایوسی طاری ہوگئی ہو۔

ابتدائی تفتیش میں فرشتے کے ساتھ ہونے والے ظلم کا سرا بھی قریبی رشتے داروں سے جوڑ دیا ہے۔ اس سےبھی بہت سے لوگوں کو شاید مایوسی ہوئی کہ اب کس پر تنقید کریں۔ 
لیکن سب سے عجیب بات اس سارے قصے میں یہ ہے کہ یہ سب لوگ presumptions یا اپنے گمان اور سوچ سے کہانیاں گھڑنے کے انتہائی ماہر ہیں اور بعد میں غلط ثابت ہونے پر اس پر شرمندہ بھی نہیں ہوتے ۔

زندگی میں اپنے ایک ٹیچر سے جو بات سیکھی اور اس پر ممکنہ حد تک عمل بھی کیا وہ یہی تھی کہ مفروضے نہ گھڑیں بلکہ حقیقت کو جانے بغیر کوئی قدم نہ اٹھائیں ۔ لیکن یہ عجب غول ہے بے ہنگم سا جو سارے اصول اور قاعدے بھلا کر ایسی حرکتوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ اور پھر اس پر شرمندہ بھی نہیں ہوتا۔
Share on Google Plus

About Ghoom ja

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.
    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments :

Post a Comment