ڈالر پر ایمان رکھنے والوں کے نام












تحریر : فقیرشیرمحمدچشتی

روپے اور ڈالر پر ایمان رکھنے والے ہونہاروں کی وجہ سے ملکی معیشت کا یہ حال ہے۔ جب بھی کوئی فقیر یا درویش یہ کہتا یے کہ دنیا کو زندگی کا مقصد مت بناؤ تو ہزار قسم کی تنقید کی جاتی ہے کہ سوسائٹی کی ضروریات ہوتی ہیں، معاشرے میں رہنا پڑتا ہے، اچھے کام کیلیے بھی یہ سب کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ


یہ سب باتیں اوپر سے ہی کی جاتی ہیں، اندر ہی اندر ڈالر اور اشیائے خورونوش ذخیرہ کیے جا رہے ہوتے ہیں اور وہ بھی صرف اور صرف اپنے تن اور من کیلیے بس۔۔۔۔۔


ہمیشہ دھوکہ دہی سے کام لینا، خود سے ہی آنکھیں چرا کر رکھنا، اور حقیقت میں خود کو ہی نقصان پہنچاتے رہنا ہر گز عقل مندی کا سودہ نہیں ہے۔۔۔۔


فقیر جب بھی کہتا ہے کہ سادہ زندگی اپناؤ تو سو تشریحات سنا دی جاتی ہیں یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ہمارے نبی کریم علیہ الصلواۃ والسلام نے کس طرح زندگی گزاری۔۔۔۔ اولیاء اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے کس طرح اپنے شب و روز گزارے۔۔۔۔۔

یوں تو سب کو پتہ ہے کہ نبی کریم صلی الله عليه والہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے نمونہ ہے، مگر افسوس کہ اس پر ایمان کی بجائے ایمان ڈالر پر ہے۔۔۔۔


معاشرے میں کوئی بھی یہ پیغام دینے والا آ جائے کہ خود کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی طرز پر ڈھال لو تو اسے عجیب حیرانی سے دیکھا جاتا ہے، اسے دقیانوس اور پاگل اور کم عقل کہا جاتا یے۔ 


جو دھوکہ باز ہو، سود خور ہو، رشوت خور ہو، سرکاری خزانے کا دشمن ہو، صرف اپنی ذات کیلیے جائز و ناجائز حد تک جانا شیوہ رکھتا ہو، ہمارا معاشرہ اپنی بچیوں کے رشتے بھی انہیں کو دینا پسند کرتا ہے، کوئی شریف آدمی تو ان کی بیٹی کو خوش نہیں رکھ پائے گا۔


یہ ہمارا معاشرہ ہے، پھر ہم صبح شام اللہ سے شکوے و شکایات بھی رکھتے ہیں کہ بارش نے نقصان کر دیا، درخت ہم نے کاٹے مگر سیلاب اللہ نے دے دیا، کروڑوں سالوں سے ندی نالے اپنے راستوں پر چلتے تھے، کمزور لوگوں کے حقوق تلف کرنے کیلیے ہم نے زمین پر ایسے نقشے کھینچ لیے کہ اب بارش وبال بن جاتی ہے ہمارے لیے، اپنی ایک روٹی کے سالن کیلیے کسی کی پوری گائے ذبح کرنے سے گریز نہیں کرتے ہم۔
پھر ہم بات کرتے ہیں فلاں جناب بات ایسے کرتا ہے جیسے بلھے شاہ ہو۔۔۔۔ کیا تم بلھے شاہ بننے جا رہے ہو؟؟؟؟؟؟؟ کیوں نہیں ہر وہ انسان بلھے شاہ بن سکتا ہے جس کا دل و دامن صاف ہے۔


یہی روش رہی تو یاد رکھیے ، اللہ انسانوں کو تخلیق کرتا ہے، وہ ایسی قوم تخلیق فرما کر اپنے راستے پر کھڑی کر دے گا اور ہم ہاتھ ملتے ہوئے اللہ سے اس بات کا بھی گلہ کرتے رہیں گے کہ اللہ نے ہماری منافقت قبول نہیں فرمائی۔


Share on Google Plus

About Ghoom ja

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.
    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments :

Post a Comment