سوشل میڈیا کی محبتوں کے افسانے
ایک دو دن پہلے ۔۔۔ ایک پوسٹ نظر سے گزری ۔۔ یاد نہیں آ رہا کہ کس کی وال پر تھی ۔۔ مگر تھی کسی فی میل کی وال پر ۔۔ جو انہوں نے کسی کے حوالے سے شئیر کی تھی۔
پہلے پوسٹ کا خلاصہ ۔۔۔۔
پوسٹ کے مطابق ۔۔ ایک لڑکی فیس بک پر کسی کے عشق میں پڑ گئی۔ بات پوسٹ پر کمنٹس سے شروع ہوئی۔۔ مسینجر سے ہوتی ہوئی ۔۔ کال پر گئی۔ پھر محبت۔۔ اور بات شادی تک پہنچ گئی۔
جب بات شادی تک پہنچ گئی تو دوسری جانب سے حسب معمول "مطالبات" سامنے آنے لگے۔ جن میں لائیو ویڈیو کال بھی شامل تھی۔ لائیو کال میں پہلے ڈوپٹہ اتارا گیا ۔۔ پھر لباس اور اختتام ویڈیو سیکس پر ہوا۔
جس کے بعد موصوف نے رابطہ ختم کر دیا اور لڑکی بستر سے جا لگی اسے احساس گناہ نے بیمار کر دیا ۔۔ وغیرہ وغیرہ
لکھنے والی نے لکھا ہے کہ میں اسے ذاتی طور پر نہیں جانتی مگر اس نے مجھے انبکس میں سب کچھ بتایا۔ آخری جملے تھے کہ وہ بہت اداس تھی اور اسے نہیں پتہ کہ وہ کن حالوں میں ہے۔ اللہ اسے سکون دے۔آمین
میری بات ۔۔۔۔۔۔
میں نے پوسٹ پڑھی ۔۔۔۔ لوگوں کے کمنٹس بھی نظر سے گزرے ۔۔ مگر زیادہ غور نہیں کیا ۔۔۔مگر یہ کہانی مجھے یاد رہ گئی۔ آج سے مطالعہ کی طرف پھر سے قدم بڑھائے ہیں اس لیے ایک بات سے یہ پوسٹ یاد آ گئی۔
لڑکی ۔۔۔۔ کیا واقعی خوف خدا میں بیمار ہوئی تھی تو اس کا جواب میرے نزدیک "نہیں" ہے ۔۔۔ کیونکہ توبہ کا دروازہ ہمہ وقت کھلا ہے اور اللہ کو بھی جوانی کی توبہ بہت پسند ہے۔ ۔۔ وہ غفور و رحیم یے۔ بلاشبہ انسان خسارے میں ہے۔ مگر وہیں اس کی تعریف بھی کی گئی ہے۔
میڈیا کے علم میں جب جب ایسے واقعات آئے ۔۔۔انہوں نے اس ایشو کو اٹھایا مگر لوگ پھر بھی دھوکہ کھائیں تو پھر قصور وار کا تعین خود کیجئے۔ سوشل میڈیا پر پروان چڑھنے والی محبتیں کتنی سچی ہیں یہ بار بار بتایا جاتا ہے مگر کوئی مانتا نہیں۔
سوشل میڈیا پر دو طرح کے لوگ آتے ہیں ۔۔ ایک ہم جیسے لکھاری جنہیں ایک عدد پلیٹ فارم کی ضرورت ہوتی ہے جہاں وہ اپنی بیٹھک سجا سکیں اور اپنے جیسوں سے ملاقات کر سکیں۔
الحمد اللہ ۔۔۔ میرا سوشل میڈیا کا تجربہ بہت اچھا رہا ہے ۔۔ باقی اختلاف وہی کہ سیاسی پوسٹ پر لوگ ذاتی ہو جاتے ہیں۔۔تصویر لگاو تو ان کا مذہب خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
آپ کو لکھے سے اختلاف کرنے کا پورا حق ہے ۔۔۔ اس لیے شجرہ نسب بتانے کی بجائے انفرینڈ کر دیا کریں۔ دنیا کی آبادی سات ارب سے زیادہ ہے۔ اپنے جیسا مل ہی جائے گا ۔۔ ہم جیسوں سے دور رہا کریں۔
اور ایک گروہ ایسے مرد و زن کا ہوتا ہے جو سوشل میڈیا پر شکار ڈھونڈنے آتے ہیں۔۔ اور ایک وہ جو فرار کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ ان دونوں میں مرد و زن شامل ہیں۔ اس لیے ایسی کہانیاں جنم لیتی ہیں جس میں " احساس ِ ندامت " کو احساس ِ گناہ " کہہ دینا زیادہ آسان لگتا ہے۔
دراصل اب ہم خوشی ہو یا غمی ۔۔۔۔ اللہ کی طرف رجوع ہی نہیں کرتے۔ خوشی اور کامیابی کا تعلق ہماری قابلیت سے ہے اور غمی کا تعلق کسی کے دھوکے اور حسد سے ہے۔ اس طرح کے جواز دے کر ہم نے اللہ کی رحمتوں کی نفی کر دی ہے اور یوں ہم بلاشبہ خسارے میں ہیں۔
اب کرتے ہیں بات اس لڑکی کی۔۔۔ جو احساس گناہ سے نہیں۔۔۔۔۔احساس دوری یا اپنی توہین سے بیمار ہوئی ہے۔ اسے اللہ سے رجوع کرنے کا ہوش نہیں آیا۔ توبہ کرتی اور شکر ادا کرتی کہ ایک دھوکہ باز سے جان چھوٹ گئی۔
ہمارے ہاں ویسے بھی 99۔99 فیصد محبتیں نکاح کی خواہش میں کی جاتی ہیں اور شادی سے پہلے اس طرح کی لوچے بازی بھی نکاح کے نام پر ہی کی جاتی ہے کہ جانو دیکھو نہ دو ماہ بعد شادی ہو ہی جانی ہے۔۔۔اتار دو نہ کپڑے ۔۔ ہو جاو نہ میری۔ ہائے عورت۔
دراصل عورت محبت اور شادی کے نام پر خود کو لٹا دیتی ہے۔ اسی لیے نہ وہ محبت صحیح طرح سے کر پاتی ہے اور نہ اچھے سے شادی نبھا پاتی ہے۔ اسے تربیت کا فقدان کہہ لیں یا لالچ۔ اس معاملے میں مرد سے کہیں زیادہ عورت خسارے میں رہتی ہے۔
اور یوں گھر پر کسی کو اعتبار میں لینے کی بجائے ۔۔۔۔ سوشل میڈیا پر ہی کسی کو اعتبار میں لیتی ہے۔ اسے اپنا سچ بتا کر اپنا رازدار بنا لیتی ہے۔ راز دار نام لیے بغیر پوری دیانت داری سے واقعہ شئیر کرتا ہے اور یوں باقیوں کو بھی پتہ چل جاتا ہے کہ کردار میں کون کون شامل ہے۔
میں نے اپنے کالمز میں یہ بات بار بار اٹھائی ہے کہ اپنوں پر اعتبار کریں اگر ایسا نہیں کر سکتے تو ۔۔ پولیس میں جائیں۔۔ وہاں بھی نہیں جانا تو صبر کرتے ہوئے ِخاموشی اختیار کر لیں۔۔
میرے پاس ایسے کئی واقعات آتے ہیں۔۔ مگر میں نام لیے بغیر سامنے وہی لاتی ہوں جنہوں نے اجازت دی ہوتی ہے ۔۔ ورنہ خاموشی بہتر۔ کیونکہ اس پر بھی ٹھرک ماریں گے ۔۔ شکاری تو اس وقت بھی مصروف ہی گا ۔۔۔جب وہ پہلی پوسٹ لکھی گئی۔۔۔ شئیر کی گئی اور اب بھی جب میں اپنا تاثر لکھ رہی۔
یقین مانیں۔۔۔۔ لوگ باز نہیں آئیں گے ۔۔ کیونکہ وہ خسارے میں ہیں۔

0 comments :
Post a Comment