حقائق نامہ
تحریر مبین ساجد پتافی
میری ورکشاپ پر دس گیارہ سال کا ایک بچہ کام سیکھ رہا بچہ ہے بہت شرارتیں کرتا ہے جس پر میں اسے ڈانٹنے کی بجائے اکثر پیار سے سمجھاتا رہتا ہوں کہ آج چھٹی لیٹ ملے گی یا جمعہ کی چھٹی بند ہے بچا ہے تھوڑی آرام سے بیٹھ جاتا ہے پھر شراتیں شروع
کل میں نے کہا بس اب ہر جمعہ تمہاری چھٹی بند ، حالانکہ وہ بھی جانتا ہے کہ میں ایسا نہیں کرتا لیکن کل اس نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ بھیاء جو بچے سکول پڑھتے ہیں ان کو تو تین تین ماہ کی چھٹیاں ملتی ہیں اور سردیوں میں بھی چھٹیاں ملتی ہیں اور جو بچے میری طرح کام سیکھتے ہیں ان کو چھٹیاں کیوں نہیں ملتی ۔۔؟؟؟؟؟
اور اوپر سے آپ کہتے ہیں کہ جمعہ کی چھٹی بھی بند کر دو گا ہم بھی تو بچے ہیں
جس پر میں سپیچ لیس ہو گیا کیونکہ اس کے اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں تھا
کیا آپ میں سے کسی کے پاس ہے اس بچے کے سوال کا جواب تو ضرور دیں ۔
یہ بات مجھے کل سے سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ ہمارے معاشرے کہ یہ بچے اتنا حق کیوں نہیں رکھتے کہ کم سے کم دوسرے بچوں کے برابر حقوق ملیں جبکہ یہ بچے ذیادہ محنت کش ہوتے ہیں
ان کے لیے قانون پاس کیا جائے ان کو ہنر کے ساتھ ساتھ تعلیم دینا لازمی ہو جوکہ دوکان مالک کے زمہ ہو سردیوں گرمیوں میں چھٹیوں کو یقینی بنایا جائے جوکہ بچے کی صحت اور نشوونما کے لیے لازمی ہیں کھیل کود کے لیے بھی روزانہ کی بنیاد پر ٹائم مختص ہو پھر ان پھولوں میں سے کامیاب ترین لوگ نکلیں
اسے میں اس کی شراتوں کی وجہ سے گلو بٹ بلاتا ہوں

0 comments :
Post a Comment