تحریر: شاہد ندیم احمد


شمالی وزیرستان میں پی ٹی ایم کےمظاہرین کا گرفتار شدگان کو رہا کروانے کے لیے فوجی چوکی پر حملے اور اس کے نتیجے میں تین افراد کی ہلاکت پر خصوصی غور رو فکر کی ضرورت ہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں پلوامہ حملے کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کی لہر نہ صرف جاری ہے، بلکہ اس میں وقت کے ساتھ شدت بھی آتی جارہی ہے۔ دہشت گردی کی اس لہر کا خاص نشانہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا ہیں ،جہاں پر ہر کچھ دن کے بعد زمین لہو رنگ ہوجاتی ہے۔ گزشتہ دنوں بھی بلوچستان میں دہشت گردی کے دو واقعات ہوئے، کوئٹہ کی مسجد میں عین نماز جمعہ کے دوران پھٹنے والے بم سے امام مسجد سمیت تین افراد شہید اور 28 نمازی زخمی ہوگئے۔ دوسرے واقعے میں چمن کے قریب فرنٹیئر کانسٹیبلری کے کمانڈنٹ کے قافلے کو بم سے نشانہ بنایا گیا جس میں تین اہلکار زخمی ہوئے۔ اس سے قبل فاٹا میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے جن کے سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا گیا۔ ان سہولت کاروں کو آزاد کرانے کے لیے پختون تحفظ موومنٹ کے بینر تلے علاقے کے لوگوں کو مشتعل کیا گیا اور سرحد پر موجود پاک فوج کی چوکی پر حملہ کردیا گیا جس میں تین مظاہرین ہلاک اور5 زخمی ہوئے۔ پختون تحفظ قومی موومنٹ کے بارے میں پہلے ہی تفصیلات منظر عام پر آچکی ہیں کہ اس کی قیادت بیرونی ہاتھوں میں کھیل رہی ہے،حالیہ واقعات سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان میں جاری در اندازی کی شدت کیا ہے۔ ایک طرف بھارت، افغانستان اور امریکا کی ساختہ بلوچستان لبریشن آرمی پوری طرح سے متحرک ہے اور اپنے آقاﺅں کے مقاصد کی تکمیل کے لیے بلوچستان میں دہشت گردی میں مصروف ہے تو دوسری طرف پختون تحفظ مومنٹ کو بھی متحرک کردیا گیا ہے۔ بھارت میں مودی کے دوبارہ سے مسند اقتدار پر براجمان ہونے کے باعث آنے والے دنوں میں اس دہشت گردی میں مزید اضافے کا امکان ہے ،کیونکہ وہ جیت کے خمار میں سب کچھ تہ و بالا کرنے کے ارادے رکھتے ہیں۔ دوسری جانب امریکا ایران کے ساتھ اس خطے میں زور آزمائی کا ارادہ رکھتا ہے اور اس زور آزمائی میں وہ پاکستان کو اپنی صف میں دیکھنا چاہتا ہے۔ امریکا اپنی بات منوانے کے لیے بلوچستان لبریشن آرمی اور پختون تحفظ موومنٹ سمیت ہر آپشن استعمال کررہا ہے، تاکہ پاکستان کا بازو مروڑ کر پاکستان کے لیے وہی صورتحال پیدا کی جاسکے جو نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملے کے وقت تھی۔ یہ وقت پاکستان کی انٹیلی جینس ایجنسیوں کے لیے آزمائش کا ہے کہ وہ اپنی ہر ممکن صلاحیت کا استعمال کرتے ہوئے دشمن قوتوں کے ایجنڈے پر عمل پیراآلہ کاروں کی سرکوبی کرنے میں کامیاب ہوجائیں،تاکہ پاکستان کسی بڑے نقصان سے محفوظ رہ سکے۔

بلا شبہ قبائلی علاقے ایک طویل عرصہ سیاسی نمائندگی‘ تعمیر و ترقی کے عمل اور بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کے حوالے سے حکومتوں کی عدم توجہی کا شکار رہے ہیں۔ اس غفلت کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں کے لوگ قانون کی پابندی اور ریاست کے سامنے اپنی طاقت سرنڈر کرنے کے اس سوشل کنٹریکٹ سے لاعلم اور ناواقف ہیں جسے آئین کہا جاتا ہے۔ ان علاقوں کی آئینی حیثیت وفاق کے زیر انتظام علاقوں کی رہی، مگر عمران خان سے پہلے یہاں ایک دو وزر اعظم نے ہی دورہ کیا۔ ان علاقوں میں سڑکیں نہیں‘ ہسپتال نہیں‘ تعلیمی ادارے نہیں، روزگار کے مواقع نہیں،عمران خان نے چند برس قبل قبائلی علاقوں کو کے پی کے میں ضم کرنے کی تجویز دی، اکثر سیاسی جماعتوں نے ان کے موقف کی تائید کی،مگر مولانا فضل الرحمن اس تجویز کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ قبائلی علاقے اب خیبر پختونخواہ کا حصہ بن چکے ہیں،گزشتہ 10ماہ کے دوران عمران خان لگ بھگ 6بار قبائلی اضلاع کا دورہ کر چکے ہیں۔ ان علاقوں میں سالانہ 100ارب روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ نئی سڑکیں‘ مارکیٹس‘ کھیلوں کے سٹیڈیم‘ تعلیمی ادارے اور ہسپتال بنائے جا رہے ہیں۔ عام قبائلی اس صورت حال سے مطمئن ہے۔ مگر یہاں ایسے لوگ موجود ہیں جو تعمیر و ترقی کے اس عمل کو روکنے کے درپے ہیں۔ قبائلی اضلاع کی پسماندگی کی ایک داخلی وجہ یہاں کے شہریوں کے ساتھ قومی قائدین اور سیاسی رہنماﺅں کا مکالمہ نہ ہوناہے۔ یہ علاقے پہلے افغان جہاد اور پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے مسلسل جنگی تصادم سے متاثر رہے ہیں۔ عسکریت پسندی یہاں روزگار کے طور پر عام ہوئی۔ اگر سیاسی جماعتیں یہاں کام کرتیں اور ان لوگوں کو قومی دھارے میں لانے کی تدبیر کرتیں تو عسکریت پسندی اور قومیت پرستی کے نام پر یہاں ایسے مسائل پیدا نہ ہوتے جو ریاست کی سلامتی کے لئے چیلنج بن رہے ہیں۔وزیرستان چیک پوسٹ پر پی ٹی ایم کارکنوں کے حملے کے بعد بھی یہ افسوسناک صورت حال برقرار ہے۔ پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اس سارے واقعے کے ذمہ داروں کو معصوم قرار دے رہے ہیں۔ مسلم لیگ( ن )کی نائب صدر مریم نواز اور اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی بھی سکیورٹی فورسز کی بجائے دوسری جانب کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ کیا سیاست اتنی خودغرض ہو سکتی ہے کہ معمولی مفادات کے لئے ریاست کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا جائے اور پھر سودے بازی کا راستہ تلاش کیا جائے۔ یہ بات عسکری اور سیاسی قیادت بخوبی جان چکی ہے کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کو تجارتی اور مالیاتی ضابطوں کے ذریعے جکڑا جا رہا ہے۔ مالیاتی تعاون کو انتظامی اور سیاسی فیصلوں کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے۔ ایک کڑی سے دوسری کڑی ملتی جا رہی ہے۔ یہ بات اب صاف ہو جانی چاہیے کہ جنگ لڑنے اور بیرونی سازشوں سے نمٹنے کا فریضہ اب تک صرف سکیورٹی اداروں نے ادا کیا ہے۔ کچھ سیاسی شخصیات اس راہ میں شہید ہوئیں، مگر سیاسی جماعتوں نے فیصلہ کرتے وقت ہمیشہ مصلحت کوشی سے کام لیا۔ سندھ میں رینجرز کو کام کرنے میں توسیع کا معاملہ ہو‘ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع ہو یا دہشت گردی کے خلاف فوجی آپریشن ہو سیاسی جماعتیں اپنا اختلاف ضرور ظاہر کرتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ چیک پوسٹ پر ڈیوٹی دینے والے جوان شہریوں کے تحفظ کے لئے کھڑے ہیں۔ یہ اگر کسی کو مشکوک سمجھ کر روکتے ہیں تو انہیں تسلی سے اپنے معصوم اور امن پسند ہونے کا بتایا جا سکتا ہے۔ ان اہلکاروں کے رویے سے اگر شکایت ہے تو ان کے اعلیٰ افسران سے بات کی جا سکتی تھی۔ یہ طریقہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتا کہ اراکین اسمبلی چند لوگوں کے ساتھ چیک پوسٹ پر حملہ کر دیں۔ملک دشمن قوتیں اپنے مضموم مقاصد کے لیے متحرک ہیں،وہ جان چکی ہیں کہ پا کستانی قوم کو میدان میں شکست دینا مشکل ہے ،انہیں حقوق و نظریات کی پھوٹ ڈال کرہی ریاست کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے ۔یہ وقت پاکستانی قوم کے متحد ہونے کا ہے، تاکہ دشمن کوکسی انتشار کی وجہ سے ملک میں بڑی کارروائی کا موقع نہ مل سکے، ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ سیاسی قوتوں کو حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے اعتماد میں لیا جائے، تاکہ ملک دشمن ایجنڈے کے آلہ کارسیاسی پارٹیوں کی چھتری استعمال نہ کرسکیں،پاکستانی حکومت کو ملک مخالفین کے خلاف بلا امتیاز متفقہ پالیسی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔



Share on Google Plus

About Ghoom ja

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.
    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments :

Post a Comment