تحریر ڈاکٹر نگہت نسیم
مجھے بطور ایڈیکشن فزیشین یعنی منشات کے عادی لوگوں کا علاج کرتے ایک دہائی ہونے والی ہے ۔ میرے مریضوں میں ہر رنگ و نسل ، زبان ، دین مذہب سے تعلق رکھنے والے مرد و زن اور نوجوان بچے شامل ہیں ۔ آپ سب کی معلومات میں اضافے کے لئے بتادوں کہ سب سے کم عمر ہیروئن لینے والا بچہ صرف سات سال کا بھی تھا۔
مجھے یہ سارے ہم جیسے ہی لگتے ہیں ۔۔گوشت پوست کے ہماری ہی طرح کا احساس لئے اپنے دکھ سکھ بتاتے ہوئے کبھی رو پڑتے ہیں تو کبھی ہنس پڑتے ہیں ۔۔ ہماری ہی طرح کے والدین اپنے بچوں کے سکھ اور لاڈ اٹھانے کے لئے ہر اس کنارے تک جا پہنچتے ہیں جہاں تک نہیں جانا چاہیئے ۔ ہماری ہی طرح کم پڑھے لکھے تو کبھی کئی ڈگریوں کے ساتھ گزارہ کرتے ہوئے لوگ ہیں ۔۔۔ ہماری ہی طرح اپنے بزرگوں کے دین پر چلنے والے ۔۔۔۔ اور کبھی ہر بات کاانکار کرتے ہوئے اپنی من مانی کرنے والے ۔
بس جو فرق تھا تو اتنا سا کہ ہمیں چائے ، کافی ، چاکیلٹ محبت ، دولت ، شہرت کی “ لت “ لگی ہوئی ہے اور انہیں منشیات کی ۔ دونوں طرح کے نشوں نے انسان کو صرف جسمانی اور روحانی نقصان ہی پہنچایا ہے ۔ پر ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے لوگ ہر طرح کی بصیرت کھو دیتے ہیں اور فوری فیصلہ کرتے ہوئے کبھی “ نشئی “ اور کبھی “ حرام خور “ جیسے الزام لگا کر ہر سزا کا حقدار سمجھتے ہیں ۔
کل بھی ایسا ہی ہوا جب پی پی پی کے اہم رکن کائرہ الزمان صاحب کے جواں سال بیٹے “ اسامہ کائرہ “ اور اس کے ساتھ اس کا دوست “ حمزہ بٹ “ ایک ٹریفک حادثے میں جا ں بحق ہو گئے اورکئی لوگوں نے دکھ اور تاسف کا اظہار کرنے کی بجائے بیٹے کی ناگہانی موت کو کائرہ صاحب کی بے ایمانی اور غلط کاری کی سزا قرار دیا ۔
میری آنکھوں میں کئی والدین کے چہرے گھوم گئے جن کے بچے ایسے ہی اچانک حادثات میں وفات پاگئے تھے ۔کیا ان بچوں کو بھی اپنے والدین کے کئے کی سزا ملی تھی ۔ ۔یہ تو اللہ پاک سے شدید بدگمانی والی بات ہے کہ وہ جو عادلوں کا عادل ہے والدین کی بدکاریوں اور گناہوں کی سزاان کے بچوں کو دے ۔۔ سوچیئے اگر عدل کا کلیہ یہی ہوتا تو کیا ہمارے بچے آج سانس لے رہے ہوتے ؟ ۔
دوستو ۔۔!
انسان چاہے کتنا بھی برا اور بدقماش ہو ۔۔۔ زندہ رہے گا تو اچھا بن سکے گا ۔۔ بس یہی ایک امید مجھے اپنے مریضوں کی مسیحائی کا جواز عطا کرتی ہے !
اسامہ کائرہ ، حمزہ بٹ اور دنیا کے وہ تمام بچے جو کسی ناگہانی آفات اور حادثات کا شکار ہو کر دنیا سے چلے گئے۔۔۔ وہ سب ہماری امیدیں تھیں جو ہم سے ہمیشہ کے لئے بچھڑگیئں ہیں ۔

0 comments :
Post a Comment