قانون دان قانون سے بالاتر نہیں
تحریر :شاہد ندیم احمد
وکالت نہ صرف ایک معزز پیشہ ہے ،بلکہ دکھی انسانیت کی عظیم خدمت بھی ہے۔پاکستان بھر کے وکلاءنے ایک طویل جدوجہد کے ذریعے عدلیہ کی بحالی میں اپنا یادگار کردار ادا کیا،یہ احتجاج تو رنگ لے آیا، مگر پاکستان بھر کے وکلاءکو ایک نیا موڑ دے گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں دہشت گردی کے ساتھ ساتھ وکلاءگردی کی اصطلاح سامنے آئی، وکلاءنے جب چاہا،جہاں چاہا اور جسے چاہا اپنے جوتے کی نوک پر رکھ لیا،کہیں معزز عدالتوں کے جج صاحبان ان کے ہتھے چڑھے اور ان پر جوتے برسائے، کہیں عدالتوں میں پیشی پر پولیس افسران،کہیں عدالتی اہلکار اور کہیں بد نصیب سائلین وکلاءگردی کا شکار ہوئے ،جس ملک میں وکلاءقانون شکن ہو جائیں،ججز کو گالیاں دیں،انہیں زود وکوب کر کے کمروں میں محبوس کر دیں اس معاشرے میں انصاف کی امید کیسے کی جاسکتی ہے۔وکلاءتحریک چلانے والوں کو چاہیے کہ اپنی سمت کا تعین کریں اپنی حدود اور اختیارات سے تجاوزکرنے کی بجائے اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کو پہچانیں جنہوں نے کالے کوٹ کو کالے کرتوت میں بدل دیا ہے۔وکلاءکی جانب سے آئے روزپولیس اہلکاروں پر تشدد کیا جاتاہے،احاطہ عدالت سے ملزمان کو بھگایا جاتا ہے۔سچ کی آوازبننے پر صحافیوں پر تشدداور ان کے کیمرے چھیننے کا عمل عام رویہ بن چکا ہے۔ وکلاءکو یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ وہ قانون دان ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں اور جب جہاں چاہیں بے قابو ہوجائیں، جس کو چاہے پِیٹ ڈالیں، جس کی چاہیں پگڑی اچھال دیں،وکلا گردی پاکستان کے عدالتی نظام کو ناقابل بیان نقصان پہنچائے گی۔
عدالتی نظام بنچ اور بارکے دو ستونوں پر قائم ہے۔ اگر ان کے درمیان ہی اونچ نیچ یا باہمی ٹکراﺅ کی نوبت آجائے تو اس سے پورا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ وکلاءکی طرف سے آئے روز ہڑتال ،عدالتوں کی تالہ بندی اور احتجاج کی وجہ سے ہزاروں سائلین متاثر ہوتے ہیں جو دور دراز علاقوں سے ہزاروں روپے خرچ کرکے آئے ہوتے ہیں۔ اسی طرح کام نہ ہونے کی وجہ سے عدالتوں میں مقدمات کی تعداد میں اضافہ سے ان پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان میںجب سے وکلاءتحریک چلی اس دن سے وکلاءنے عجیب و غریب رویہ اختیار کررکھا ہے۔ وکلاءنے اپنے گروپ بنارکھے ہیں جن کے ذریعے ماتحت عدالتوں میں اپنی مرضی کا فیصلہ کروانے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر متعلقہ جج ان کی مرضی کے مطابق چلنے سے انکار کردے تو بھری عدالت میں جج پر تشدد بھی کرنے سے گریز نہیں کرتے، جبکہ ججوں کو مغلظات بکنا اور بر ابھلا کہنا اب کوئی اچنبھے کی بات نہیں رہی ہے۔ اگر ان وکلاءکے خلاف کوئی انتظامی کارروائی کی جائے یا ججوں پر تشدد کی پولیس میں ایف آئی آر ہی درج کروانے کی کوشش کی جائے تو پوری بار ایسوسی ایشن ایسے شر پسند وکلاءکی پشت پر کھڑی ہوجاتی ہے اور عدلیہ کا بائیکاٹ شروع کردیا جاتا ہے،بعدازاں معاملہ بس اس حد تک حل ہوتا ہے کہ کسی چیمبر میں وکیل سے معافی منگوا کر اس قصہ کو رفت گشت کردیا جاتا ہے۔ وکلا ءکی عدالتوں کا احترام نہ کرنے کی یہ روایت اب اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ اس کے لیے وکلا ءگردی کی اصطلاح بھی وجود میں آگئی ہے۔ اب کالا کوٹ انصاف کی علامت کے بجائے دہشت کی علامت بن گیا ہے۔ گزشتہ دنوں پنجاب کے علاقے جڑانوالہ میں ایسا ہی واقعہ پیش آیا، جہاں پر ایک وکیل نے بھری عدالت میں جج کو کرسی مار کر زخمی کردیا،ایسے متعدد واقعات آئے روز ہوتے رہتے ہیں، اس کا احساس اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو بھی ہے، مگر اس کے تدارک کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے جارہے ہیں جس سے پورے ملک میں انصاف کا نظام ہی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے ایک کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جوڈیشل سسٹم ختم کردیں تو ملک جنگل بن جاتا ہے۔ ہمارا سسٹم تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور صرف 2 فیصد وکلا نے پورے سسٹم کو مفلوج کررکھا ہے۔ 98 فیصد وکلا کا فرض ہے کہ وہ اس سسٹم کی بہتری اور عوام کے حق کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انصاف کسی بھی معاشرے کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس ملک سے انصاف کا خاتمہ ہوجاتا ہے، وہ ملک بھی بالاخر ختم ہوجاتا ہے۔اس اہم ترین مسئلے کے حل کے لیے بار ایسوسی ایشنوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور ایسے وکیلوں کی بار ایسوسی ایشن کی رکنیت ہی منسوخ کردینی چاہیے۔ وکلاءکی بلیک میلنگ یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ فوری اور سستے انصاف کے لیے پورے ملک میں ماڈل کورٹس کا نظام عمل میں لایا گیا ہے، جہاں پر ماہ و سال کے بجائے دنوں میں کیسوں کے فیصلے ہورہے ہیں اور عوام کو فوری اور سستا انصاف مل رہا ہے، چونکہ ان ماڈل کورٹس میں تاریخوں پر تاریخ نہیں پڑ رہیں، اس لیے وکلائنے ان عدالتوں کی مخالفت شروع کردی ہے اور اب ان عدالتوں کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ اس جانب بارہا توجہ دلائی گئی ہے کہ عدلیہ کی مناسب تطہیر کی فوری ضرورت ہے۔ طویل اور مہنگی عدالتی کارروائی انصاف کی فراہمی میں مانع ہے۔ اس کے علاوہ کئی برس تک فیصلہ محفوظ رکھنے کی بھی پاکستان ہی میں مثالیں ملتی ہیں، جبکہ رشوت خوری کچہری میں عام سی بات ہے۔ عدالتوں میںجن ججوں کے ایک تناسب سے زاید فیصلے اعلیٰ عدالتوں میں جا کر تبدیل ہوجائیں، ایسے ججوں کا کیس جوڈیشیل کونسل کو بھیجنا چاہیے۔ شراب سے شہد میں تبدیل ہونے کی نظیر نے عدلیہ کو معاشرہ میں مذاق بنادیا ہے، جبکہ شاہ رخ جتوئی اور مصطفےٰ کانجو جیسے لوگوں کو ملنے والے ریلیف نے بھی عوام میں یہ تاثر پیدا کردیاہے کہ طاقتور کو ہر جگہ سہولت ملتی ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کو جس طرح سے پوری سہولت کے ساتھ عدالت نے ملک سے جانے کی اجازت دی اور جس طرح سے راو ¿ انوار کی ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں آو ¿بھگت کی گئی، اس سے اندازہ ہوا کہ پاکستان میں قانون کا ڈنڈا لاوارثوں پر تو زور سے پڑتا ہے، مگر زبردستوں کا محافظ ہے۔عدلیہ سے یہ شکایتیں تو پہلے بھی موجود تھیں، مگر اب نئے پیدا ہونے والے وکلاءگردی کلچر نے عوام کا عدلیہ پر سے رہا سہا اعتماد بھی ختم کردیا ہے جس سے عدلیہ کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کہ وکلاءگردی،تشدد پسندی اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث وکلاءکی تعداد بہت کم ہے، لیکن ان مٹھی بھر وکلا نے فرض شناس اکثریت کی ساکھ کوبھی خراب کیا ہے۔وکلاءکی اکثریت نہایت اچھے اور مہذب افراد پر مشتمل ہے، جو صرف حق کا ساتھ دیتے ہیں اور جھوٹے کا مقدمہ تک نہیں لڑتے، جنہوں نے قانون کی بالادستی کیلئے نہ صرف طویل جدوجہد کی، بلکہ عظیم قربانیاں دیں۔وکلاءقیادت کو چاہئے کہ حدودو اختیارات سے تجاوزکرنے اور قانون کا غیر قانونی استعمال کرنے والی کالی بھیڑوں کو پہچانیں،جنہوں نے کالے کوٹ کی آڑ میں کالے کرتوت چھپارکھے ہیں۔معززوکلاءاس مقدس پیشے اور انصاف کی علامت کالے کوٹ کی حرمت کیلئے شرپسند عناصر سے ناصرف بریت اور لاتعلقی کا اظہار کریں، بلکہ ان کی رکنیت ختم کرکے پریکٹس پر پابندی لگائی جائے۔حکومت عوام کو فوری و سستے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے تقدس وقار کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے، عدلیہ پہلے ہی سرکاری حلقوں اور دیگر ایجنسیوں کے دباو ¿ کا شکار ہے ،ایسی صورتحال میں وکلاءکے دباو ¿ کو نہیں روکا گیا تو پھر پاکستان سے انصاف کا نام ہی رخصت ہوجائے گا اور حقیقت میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی ضرب المثل پر عمل ہوگا۔وزیر اعطم عمران خان مدینہ کی ریاست کی بات کرتے ہیں، انہیں علم ہونا چاہیے کہ مدینہ کی ریاست کی بنیاد ہی بے لاگ اور بلاامتیاز انصاف کی فراہمی تھا ۔

0 comments :
Post a Comment