خوف پھیلانے کی گھناﺅنی سازش
تحریر ِ:شاہد ندیم احمد
رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں حکومت کی طرف سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، لیکن اس کے باوجود دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں۔ داتا دربار پر حملہ مقدس ایام میں خوف پھیلانے کی گھناﺅنی سازش ہے۔ ماضی میں بھی داتا دربار کے اندر اور باہر خودکش حملے ہو چکے ہیں، لیکن اس بار سکیورٹی اداروں کے چوکس ہونے کی بنا پر دہشت گرد اپنے اصل ہدف تک نہیں پہنچ سکا، اس نے سکیورٹی کی گاڑی کے قریب ہی حملہ کر دیاجس میں چھ پولیس اہلکاروں سمیت دس افراد شہید اور 25 زخمی ہوگئے۔ دراصل پاک فوج نے جب سے دہشت گرد گروپوں، ملک دشمن عناصر اور بدخوہمسائیوںکے ساتھ رابطوں سے پردہ چاک کیا ہے، تب سے ہمارے سکیورٹی کے جوانوں کے خلاف بیرونی طاقتیں سرگرم ہو چکی ہیں۔ پہلے سرحد پار سے پاک فوج کے جوانوں پر حملہ کیا گیا، اب پنجاب میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو باعث تشویش ہے، لیکن دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے سکیورٹی اداروں کو مزید الرٹ رہنا چاہئے، تاکہ مزید کسی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
سفاک دہشت گردوں نے اس گھناﺅنی واردات کیلئے جس مقدس مہینے اور جس عقیدت والے مقام کا انتخاب کیا،اس کے پیش نظر یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوسکتی کہ یہ عناصر اسلام کی تعلیمات اور انسانیت سے عاری ہیں جن کا ایجنڈا اس ارض وطن میں صرف انتشار اور افراتفری پیدا کرنے کا ہے، تاکہ پاکستان کی سلامتی کے درپے اسکے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کا موقع مل سکے۔
اس مقصد کیلئے لوگوں میں لسانیت ،علاقائیت اور مذہبی بنیادوں پر تفرقہ پیدا کرنے کی سازش کی جاتی ہے جس کیلئے
معصوم لوگ ان کا نرم چارہ بن جاتے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے بالخصوص بلوچستان اور خیبر پی کے میں ٹارگٹ کلنگ ،خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دوسری وارداتوں کا جس بھیانک انداز میں سلسلہ شروع ہوا ہے، وہ اس امر کی واضح عکاسی کرتا نظر آیا کہ دشمن مذہبی اور لسانی و علاقائی بنیادوں پر ہماری صفوں میں پیدا ہونیوالی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی کئے بیٹھا ہے۔ اس سلسلہ میں بھارتی ایجنسی ”را“ اور افغان ایجنسی کا کردار بھی کھل کر سامنے آیا، جبکہ دہلی اور کابل باہمی ملی بھگت کے تحت پاکستان پر دہشت گردوں کے سرپرست کا لیبل لگوانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے وہ اپنی سرزمین کے علاوہ پاکستان کی سرزمین پر بھی دہشت گردی کی وارداتوں کیلئے کھل کھیلتے ہیں اور پھر ان وارداتوں کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈال کر اسے اقوام عالم میں بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے مذہبی ،لسانی اور علاقائی منافرت کو فروغ دینے کیلئے دشمن کو ہمارے اندر سے بھی اپنے آلہ ءکار مل جاتے ہیں جو نہ صرف پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے ،بلکہ اسے دہشت گردی کے حوالے سے دنیا میں بدنام کرنے کیلئے بھی ہمارے سفاک دشمن بھارت کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں۔
یہ صورتحال جہاں بطور مسلمان ہمارے لئے لمحہ ءفکریہ ہے وہیں سکیورٹی انتظامات کے معاملہ میں بھی غوروفکر کی متقاضی ہے۔ ڈی آئی جی اپریشنز لاہور کے بقول ماہ رمضان المبارک میں لاہور میں ممکنہ دہشت گردی کی اطلاعات تو موجود تھیں ،تاہم دہشت گردوں کی جانب سے مزار داتا دربار کو ٹارگٹ کرنے کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ اگر لاہور میں ممکنہ دہشت گردی کی عمومی اطلاع بھی ہماری سکیورٹی ایجنسیز کو مل چکی تھی تو سکیورٹی انتظامات کیلئے مزار داتا گنج بخش پر خصوی توجہ دی جانی چاہیے تھی ،کیونکہ دہشت گرد اس مرکز تجلیات کو پہلے بھی ٹارگٹ کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرچکے تھے۔ بے شک ہمارے سکیورٹی اداروں نے اس ارض وطن کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرنے کیلئے بے بہا قربانیاں دی ہیں اور وہ دہشت گردوں کی کمر توڑنے میں سرخرو بھی ہوئے ہیں جس کیلئے پوری قوم کو ان پر فخر ہے اور آج ہمارے سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کے نتیجہ میں ہی ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال بہت بہتر ہوگئی ہے، تاہم ہمارا جس مکار دشمن سے پالا پڑا ہے جو ہماری کسی نہ کسی اندرونی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کے موقع کی ہمہ وقت تاک میں رہتا ہے،اس کے پیش نظر ہمارے سکیورٹی اداروں میں کسی قسم کے لیپس کا کوئی تصور موجود نہیں رہنا چاہیے۔ اگر داتا دربار دہشت گردی میں بطور خاص پولیس وین کو ٹارگٹ کیا گیا ہے تو دہشت گردوں اور انکے سرپرستوں و سہولت کاروں کو سکیورٹی انتظامات میں موجود کسی خامی کے باعث ہی اس واردات میں سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا موقع ملا ہے۔ بے شک ملک کی سول اور عسکری قیادتیں اور سکیورٹی ادارے اس ارض وطن کو دہشت گردی سے مکمل پاک کرنے کے عزم پر کاربند ہیں جس کیلئے مختلف اپریشنز کی صورت میں موثر اقدامات بھی اٹھائے جارہے ہیں ،تاہم سفاک و عیار دشمن کی موجودگی میں ہمیں اپنی سکیورٹی مکمل فول پروف بنانے اور بطور خاص مذہبی عبادات والے حساس مقامات پر سکیورٹی فورسز کو ہمہ وقت الرٹ رکھنے کی ضرورت ہے ۔
اس میں شک نہیں کہ دہشت گردی میں کمی واقع ہوئی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سیکیورٹی اداروں کے ارکان نے جان ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ہے، تاہم اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ابھی تک دہشت گردوں نے ہار نہیں مانی، اور انہیں جہاں کہیں موقع ملتا ہے وہ ایسی کوئی نہ کوئی واردات کر دیتے ہیں، کئی مقامات پر براہِ راست سیکیورٹی اداروں کے ارکان کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔اگرچہ لاہور میں یہ واردات پونے دو سال کے بعد ہوئی ہے، تاہم لگتا ہے کہ دہشت گرد اپنی منصوبہ بندیوں میں لگے ہوئے ہیں اور موقع کی تاک میں رہتے ہیں۔ایسے دھماکوں کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلنے کا بھی احتمال ہوتا ہے، اِس لئے اب اس واقعے کی جو تحقیقات کی جائے گی اس میں یہ جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ منصوبہ بندی کرنے والوں کے پیش ِ نظر فرقہ کشیدگی پھیلانا تو نہیں تھا،ماضی میں مذہبی مقامات پر جو دھماکے ہوتے رہے ہیں اُن کا مقصد بھی یہی تھا،لیکن پاکستان کے باشعور عوام نے ہمیشہ ایسی سازشوں کو ناکام بنایا ہے اور امید ہے آئندہ بھی دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے،لیکن دھماکے سے واضح ہوتا ہے کہ منصوبہ بندی کرنے والے ہمیشہ فرقہ وارانہ کشیدگی کے امکانات کو پیش ِ نظر رکھ کر ایسے منصوبے بناتے ہیں،دھماکے سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کے ساتھ ساتھ اب تحقیقات کا انتظار کرنا چاہئے اور امید رکھنی چاہئے کہ منصوبہ سازوں کو بے نقاب کیا جائے گا، داتا دربار دہشت گردی عوام میں خوف پھلانے کی ایک گھنانی سازش ہے ،عوام کو کسی اشتعال میں مبتلا ہونے کی بجائے صبرو تحمل سے حالات کا مقابلہ کرنا چاہئے، توقع ہے کہ تحقیقاتی ادارے جلد دہشتگردوں کے سہولت کاروں کا سراغ لگا کر کیف کردار تک پہنچائیں گے۔

0 comments :
Post a Comment