سویڈن میں یورپین پارلیمنٹ کیلئے الیکشن
تحریر طارق محود
آج سویڈن میں یورپین پارلیمنٹ کیلئے الیکشن کا آخری دن ہے، سویڈش اخبارات میں پچھلے ایک مہینے سے اون لائن سوالناموں کے لنک دیئے ہوئے ہیں جنکے جوابات دینے پر فوراً ہی سکرین پر آجاتا ہے کہ آپکی پسندیدہ پارٹی کونسی ہے، میں نے کافی عرصے سے دو سیاسی جماعتوں کے بارے میں فیصلہ کیا ہوا تھا کہ صرف انہیں کو ووٹ دینا ہے، کیونکہ امیگرینٹ پس منظر کے حوالے سے ان دو جماعتوں کی سوچ میری سوچ سے مل رہی تھی
لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ امیدوار کونسے کونسے ہیں، اسکی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ سویڈن میں آپکی مرضی ہے کہ کسی امیدوار کو ووٹ ڈالیں یا صرف پارٹی کے نام پر ڈالیں دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے، الیکشن کے بعد ووٹس کی گنتی ہوتی ہے اور یہ پتا چل جاتا ہے کہ کس پارٹی کو کتنے ووٹ ملے ہیں اس تناسب سے یورپین پارلیمنٹ کی بیس نشستیں ساری پارٹیوں میں تقسیم ہوجاتی ہیں
ہر پارٹی نے الیکشن سے پہلے ہی اہلیت کی بنیاد پر نمبر ایک سے لیکر پندرہ بیس نمبر تک لسٹیں بنائی ہوتی ہیں اور جب ووٹس کے تناسب سے یہ فیصلہ ہو جاتا ہے کہ کسی پارٹی کو کتنی نشستیں ملنا ہیں تو ہر پارٹی اپنی اپنی لسٹ سے مطلوبہ نام آگے بھیج دیتی ہے، اس طریقے سے پارٹیاں اور انکی پالیسیاں پروموٹ ہوتی ہیں انفرادی شخصیات کون ہیں کوئی نہیں جانتا۔
میں آج جب گھر کے نزدیک مطلوبہ پولنگ اسٹیشن میں ووٹ کا خط لیکر پہنچا تو یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ دو چار لوگوں کے علاوہ وہاں کوئی ووٹ ڈالنے والا نہیں تھا، دو عربی خواتین باپردہ ہو کر سر پر سکارف لیئے ووٹر گائیڈ کی خدمات سرانجام دے رہی تھیں، جنہیں دیکھ کر دلی خوشی ہوئی
ہال میں داخل ہوتے ساتھ ہی سامنے ڈیسک پر دس پندرہ سیاسی جماعتوں کی چھوٹی چھوٹی پرچیاں پڑی ہوئی تھیں جن پر پندرہ بیس امیدواران کے نام پرنٹ ہوئے ہوئے تھے، میں نے اپنی پسند کی دو جماعتوں کی پرچیاں اٹھائیں اور ایک طرف پردے میں جا کر دونوں پرچیوں پر موجود ناموں پر ایک اچٹتی نظر ڈالی تو ایک جماعت کی پرچی پر دو مسلم نام نظر آئے، عدنان جبرانی 34 سالہ اکنامکس ڈگری ہولڈر اور ناصرہ علی، تیس سالہ یونیورسٹی طالبعلم۔ چپکے سے ناصرہ بی بی کے نام کے سامنے کراس لگایا، پرچی کو سفید لفافے میں بند کیا اور اپنا شناختی کارڈ دکھا کر ووٹ باکس میں ڈال دیا
باہر نکلتے وقت عربی ووٹر گائیڈ خواتین کو آہستہ سے بتا دیا کہ مسلمان خاتون پر کراس لگایا ہے، دونوں چہروں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور میں دروازے سے باہر نکل آیا۔

0 comments :
Post a Comment