تحریر محمد شبیر شاہد مہروی
قدرت نے ابتداۓ آفرینش سے ہی انسان کے لۓ ضروریات و آسائشاتِ زندگی کے ساتھ ماحول کو خوبصورت بنانے کا انتظام فرما رکھا ہے۔
مگر انسان جو اشرف المخلوقات ہے اس نے جہاں اپنے ماحول کو خود خراب کرنے کا ذمہ لے رکھا ہے وہیں دوسروں کو اذیت میں مبتلا کرنا یا رکھنا بھی پسند فرماتا ہے۔۔۔۔۔
مہذب معاشروں میں مقتدر لوگ اپنے عوام کے لۓ زندگی کی تمام تر سہولیات بہم پہنچانے کے لۓ کوشاں رہتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مہذب پن آنے میں شاید ابھی بہت دیر ہے۔
یہاں پر کسی منصب پر فائز لوگ اپنے آپ کو خدا سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو صرف اپنے لۓ جیتے ہیں اور دنیا جہان کی دولت اپنے جہنم نما پیٹ میں بھرنے کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔
راجن پور جو ابتداۓ آزادی سے ہی پسماندہ علاقہ چلا آرہا ہے یہاں کے مقتدر حلقے، جاگیردار، سردار اور وڈیروں سمیت ان کے چمچے بھی اسے سنوارنے اور یہاں کے عوام کی فلاح و بہبود اور ضروریات زندگی بہم پہنچانے کے لۓ کوئی بھی قابل ذکر کام کرنا ہی نہیں چاہتے بلکہ ایسے کاموں پر وقت اور فنڈز ضائع کر دیۓ جاتے ہیں جو غیر مستقل اور غیر ضروری ہوتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں راجن پور شہر میں خوبصورتی کے نام پر کھجوروں کے درخت لگاۓ جا رہے ہیں جن پر کروڑوں روپے لگاۓ جا رہے ہیں۔۔۔۔ جن کا پھل عوام کھائیں یا نہ کھائیں البتہ یہ لگوانے ضرور کھا چکے ہیں۔
وہ راجن پور جس میں غریب عوام پینے کے پانی سے محروم ہیں اور ان تالابوں سے پانی پینے پر مجبور ہیں جہاں سے جانور اور کتے بھی پیتے ہیں اگر یہی رقم ان کے لۓ فلٹر پلانٹ لگانے پر خرچ کر دی جاتی تو انتظامیہ بے شک اس سے فائدہ نہ اٹھا پاتی لیکن عوام ضرور خوش ہوجاتی اور انہیں صحت جیسی عظیم نعمت بھی میسر آ جاتی۔۔۔۔
مگر کیا کیا جاۓ کہ یہاں سب چل رہا ہے اور سب خاموش تماشائی بنے ہوۓ ہیں جو اکا دکا آوازیں اٹھ رہی ہیں انہیں بھی طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اللہ کرے کہ ہمارے ان منصب داروں مراعات یافتہ لوگوں کو اپنے پیٹ بھرنے کی بجاۓ عوام کی فکر میسر آجاۓ۔
آمین




0 comments :
Post a Comment