جرمنی اور قانون کی حکمرانی

تحریر ۔۔۔ مرزا روحیل بیگ

دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ مشرقی جرمنی پر روس کا کنٹرول تھا جبکہ مغربی جرمنی امریکا، برطانیہ اور فرانس کے زیر اثر آ چکا تھا۔ جرمن قوم دو حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی اور ان کے درمیان دیوار برلن کھڑی کر دی گئی تھی۔ جرمن قوم شکست و ریخت کے زخموں سے لہو لہان تھی۔ جنگ کے نتیجے میں شہر شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے تھے۔ ان مشکل حالات میں ایسی بے لوث قیادت ابھری جس نے جرمن قوم کی ڈوبتی کشتی کو حالات کے بھنور سے نکال کر نہ صرف کنارے لگایا بلکہ جرمن قوم کا کھویا ہوا وقار بھی بحال کیا۔ اس شخصیت کا نام تھا ہیلمٹ کوہل۔ ہیلمٹ کوہل 1982 میں مغربی جرمنی کے چانسلر منتخب ہوئے۔ ہیلمٹ کوہل نے دوسری جنگ عظیم کے زخموں سے چور جرمن قوم کے اتحاد کیلئےانتھک کوششیں کیں جن کی وجہ سے بظاہر ناممکن نظر آنے والا مشرقی اور مغربی جرمنی کا اتحاد ممکن ہوا۔ ہیلمٹ کوہل کو جرمنی کی سیاسی تاریخ میں سب سے طویل عرصے 1982 سے 1998 تک چانسلر رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔ جرمن قوم نے اسے بابائے جرمن کا خطاب دیا کیونکہ ہیلمٹ کوہل نے تباہ حال اور پسماندہ جرمنی کو ایک مضبوط اور جدید ترقی یافتہ ملک بنانے کی بنیاد ڈالی تھی۔ ہیلمٹ کوہل کا دامن ہر طرح کے الزامات سے پاک رہا لیکن بعدازاں 1999 میں انہیں ایک کرپشن سکینڈل نے آ گھیرا۔ ان کی پارٹی CDU پر الزام تھا کہ اس نے کوہل کی سربراہی میں 1993 سے 1998 تک مشکوک ذرائع سے قریب 1 ملین ڈالر کے فنڈز وصول کیئے۔ ہیلمٹ کوہل کڑی تنقید کی زد میں آئے تو پارٹی کی اعزازی چئیرمیں شپ سے مستعفی ہو گئے۔ کوہل کی عظیم خدمات کے باوجود قانون نے ان سے کوئی رعایت نہ بخشی۔ کوہل کے خلاف کرمنل انویسٹی گیشن شروع ہوئی اور انہوں نے بدنامی کا داغ دھونے کے لیئے 1 لاکھ 42 ہزار ڈالر اداکیئے، جس کے لیئے انہیں اپنا گھر گھروی رکھنا پڑا۔  ہیلمٹ کوہل نے نہ صرف اپنی پارٹی سے ہونے والی غلطی کا اعتراف کیا بلکہ خود کو احتساب کے لیئے پیش کرتے ہوئے ہرجانہ بھی ادا کیا۔ جرمنی میں قانون کی حکمرانی کو اس واقعہ سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ آئین و قانون کسی بھی قوم کے خیالات، جذبات اور احساسات کی ترجمانی کیا کرتے ہیں۔ ان کی خلاف ورزی سے قوم اور ملک کی بنیادیں شدید زلزلے کی لپیٹ میں آ کر تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔ قانون ہی واحد راستہ ہے جس پر چل کر قومیں ترقی کرتی ہیں۔ جرمنی کا عدالتی نظام آزاد اور خودمختار ہے۔ یہاں جو بھی جرم کرے گا اس کو سزا ضرور ملے گی۔ وہ قانون کی گرفت سے راہ فرار اختیار نہیں کر سکے گا۔ افسوس پاکستان میں قانون تو موجود ہے مگر شاید حقیقی معنوں میں اس پر عمل نہیں ہوتا۔ بااثر اور طاقتور افراد جو قانون کو توڑتے ہیں، کوئی بھی ان سے بازپرس کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ پاکستان میں ادارے کمزور اور شخصیات طاقتور ہیں۔ قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی لوگ ہیں۔ قانون کی حکمرانی اور بالادستی کی تلقین ریاستی عوام کے حوالے سے زیادہ کی جاتی ہے۔ جب کہ ملک کا ایک بااثر طبقہ، اشرافیہ یا جاگیردار طبقہ خود کو ان قوانین سے بالاتر سمجھتا ہے۔ ان کے لیئے قانون ہاتھ میں لینا یا ریاست کے فعال اداروں کے اصول و ضوابط سے روگردانی کرنا ایک باعث افتخار امر ٹھہرتا ہے۔ اسی طرح جب ملک کے اعلی ترین منصب دار قانون کو من مانے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے لگ جائیں تب بھی قانون کی بالادستی کا تصور ملیامیٹ ہونے لگتا ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی ریاست کے فعال اور دیانتدار اداروں سے مشروط ہوتی ہے۔ ہم ایک ایسی ریاست کا خواب دیکھتے ہیں جہاں عدلیہ آزاد ہو اور ریاست کے سبھی بالائی اور زیریں طبقات اس کے فیصلوں کے پابند ہوں۔ یہ جرمن حکمران طبقہ کے شفاف طرز حکومت اور قانون کی حکمرانی کا ہی اثر ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد شکست خوردہ جرمن قوم پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے آج وہی قوم دنیا بھر سے آئے لاکھوں مہاجرین کو اپنی میزبانی کے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔
Share on Google Plus

About Ghoom ja

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.
    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments :

Post a Comment