سفر نامہ لاھور سے تاؤبٹ تک۔ قسط نمبر 2

قسط نمبر 2 
سفر نامہ  لاھور سے تاؤبٹ تک۔


تحریر : اعظم احمد

پریوں کے دیس،وادی نیلم کا یادگار سفر،2015.

ہمارا اگلا پڑاوٗ شاہ جی کے کہنے پر ایک ایسے موڑ پر ہوا جہاں سے جھیل سے ہمارا راستہ الگ ہوکر آزاد کشمیر کے اندر جارہا تھا،بہت دلکش منظر تھا،نیچے گہراہی میں جھیل پرکوئی پل بھی زیرِتعمیر تھا۔یہاں بھی فوٹوز بنیں،کچھ دیر گھاس پر لیٹ کر کمر سیدھی کی اور دوبارا نکل پڑے،اگلی منزل کوٹلی شہر تھا۔دوپہرایک بجے ہم کوٹلی شہر سے گذر رہے تھے،دریا کا پل کراس کر کے ہم کوٹلی شہرکے سامنے کے پہاڑی سلسلے میں داخل ہوےٗ،رستہ دشوار گذار اور بتدریج بلندی کی طرف گامزن تھا، نئی سڑک بنانے کا کام جاری تھا،جابجا سڑک پر پتھر اور بجری ڈلی ہوئی تھی،گاڑیوں پر سفر بہت مشکل تھا لیکن موٹر سایئکلوں پر ہمیں کوئی دقت نہیں ہوئی ،سڑک کے کنارے دائیں ہاتھ کا نظارا ایسا دلنشیں تھا کہ لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے،نیچے گہراہی  میں دریاےٗ جہلم اور اسکے کنارے پر آباد کوٹلی شہر پریوں کا دیس لگ رہا تھا،دو اڑھائی بجے ہم راستے میں آنے والے ایک خوبصورت قصبے ؛بلوچ؛ پہنچے تو بھوک بھی اپنے نقطہ انتہا تک پہنچی ہوئی تھی۔



سڑک کنارے ایک رسٹورنٹ پر سب بائیکس کھڑی کر کے اندر داخل ہوےٗ،ہوٹل کے پچھواڑے سے وادی کا خوبصورت منظر نظر آرہا تھا،اوپر ایک بڑے کمرے میں بیٹھ کر کھانے کا آرڈر دیا،کھانا آنے تک گپ شپ،اور جگت بازی اپنے زوروں پر رہی،کھانا تو واجبی سا تھا لیکن چاےٗ بہت غضب کی تھی۔پورے کشمیر میں اچھی چاےٗ ایک مشترک چیز تھی جبکہ کھانا بس مناسب سا ہی ملا۔کھانے کے دوران ایک مقامی کشمیری اوپر ہمارے پاس آیا،سلام دعا اور حال احوال کے بعد اس نے بتایا کہ وہ حال ہی میں فوج سے ریٹائر ہوا تھا،کچھ عرصہ لاھور میں بھی ڈیوٹی کی ہے وغیرہ وغیرہ۔ جونہی موصوف کو پتہ چلا کہ ہمارے ساتھ شاہ جی بھی ہیں تو انکی آنکھیں چمک اٹھیں،بڑی عقیدت سے شاہ جی کے چرن چھوےٗ اور ان کو بصدِ اصرار الگ لے جا کر اپنا کوئی مسلٗہ بیان کیا اور شاہ جی سے تعویذ کے طلب گار ہوےٗ،شاہ جی بیچارے اس شعبے کے بندے ہی نہ تھے پھر بھی انہوں نے اس سادہ لوح کو اسکی روٹھی بیوی کے واپس آنے کی نوید سنائی ،فوجی صاحب نے شاہ جی سے انکا موبائل نمبر لیااور وعدہ بھی کہ وہ کوئی خصوصی چلہ کرکے اسکی بیوی کو واپس آنے پرمجبور کردیں گے۔


ہوٹل سے باہر نکلے تو بائیک کا پنکچر ٹائر میرا منہ چڑا رہا تھا،سامنے پنکچر والے کے پاس بائک کھڑی کر کے مجھے خیال آیا کہ صبح سے کوئی نماز نہیں پڑھ پاےٗ کیوں نہ اس وقفے میں نماز پڑھ لی جاےٗ،عمر مغل نے بھی مجھ سے اتفاق کیا اور ہم ذرا اوپر پہاڑی پر واقعہ مسجد میں نماز پڑھنے چل دیے باقی ساتھی ادھر اًدھر سگریٹ وغیرہ کی خریداری میں مشغول ہو گےٗ۔تھوڑی دیر بعد ہم بلوچ سے نکل کر جھیل بنجوسہ کی طرف روانہ ہوےٗ،جھیل بنجوسہ راولہ کوٹ سے کچھ پہلے واقع ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ جھیل حسنِ کشمیر ہے،ایک گھنٹہ کے مزید سفر کے بعد ہم پہاڑوں اور اونچے درختوں کے بیچ جھیل بنجوسہ پہنچ چکے تھے۔

بلندوبالا چیڑ اور دیودار کے درختوں کے بیچوں بیچ ایک خوبصورت جھیل غروب ہوتے ہوےٗ سورج کی کرنوں میں ایک بیخود کر دینے والا نظارا پیش کر رہی تھی۔جھیل کی پشت پر درخت اور پہاڑ تھے جبکہ سامنے گھاس کا میدان اور اسکے پیچھے ایک خوبصورت بلڈنگ تھی،گھاس کے میدان میں ہم نے مغرب کی نماز ادا کی اور اللہ کا شکر ادا کیا جس نے انسانوں کیلیے اتنی خوبصورت دنیا بنائی  اور جسے حضرتِ انسان جہنم بنانے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے۔


جھیل کے اِدھر اًدھر کچھ حسین چہرے منظر کے حسن کو اور دوبالا کر رہے تھے،جنہیں دیکھ کرہمارے نوجوان ساتھی  میاں عمر،عمر مغل،عقیل،شہباز، وغیرہ بھی چوکس ہوکر سٹائل مارنے لگے۔فوٹو سیشن کے بعد ہم وہاں سے راولا کوٹ روانہ ہوےٗ،راولہ کوٹ پہنچنے تک شام رات میں ڈھل چکی تھی۔پی ایس او کے پٹرول پمپ پر موٹر سائیکلوں کی ٹینکیاں ایک بار پھر فًل کروائیں جبکہ اپنی ٹنکیاں واش رومز میں خالی کیں،اب چونکہ نیند اور تھکن سے برا حال تھاتو شاہ جی اور میں نے تجویز پیش کی کہ رات ادھر ہی قیام کیا جاےٗ،لیکن علی صاحب کا اصرار تھا کہ مظفر آباد پہنچا جاےٗ وہاں ہمارے کمرے بک ہیں بس مزید دو گھنٹے کا سفر ہے ہم دس گیارہ بجے وہاں پہنچ جایئں گے،اکثریت چلنے پر آمادہ ہوگیئ تو بادل ِناخواستہ ہمیں بھی چلنا پڑا لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اب مجھ سے مزید ڈرایئونگ نہیں کی جاےٗ گی۔


 اب شہباز صاحب میری بایئک چلا رہے تھے اور میں ان کی جگہ عقیل کے پیچھے بیٹھا سفر کر رہا تھا۔یہ اس پورے ٹرپ کا سب سے مشکل اور خطرناک حصہ تھا،اندھیری رات،مکمل سناٹا اورسڑک کے دونوں طرف گھنا جنگل۔۔۔سب مل کر ایک آسیبی ماحول بنا رہے تھے اور میرے ذہن میں ہنگری کے کاوٗنٹ ڈریکولا کی کہانی گردش کر رہی تھی اور مجھے لگ رہا تھا جیسے بدروحیں ہمارے تعاقب میں ہوں،تھکن سے چًور جسم اور نیند سے بوجھل آنکھوں کے ساتھ ہم چلتے جارہے تھے اور یوں لگ رہا تھا جیسے ہم صدیوں سے سفر کر رہے ہوں اور یہ سفر کبھی ختم نہ ہوگا،کافی سفر کے بعد احساس ہوا کہ علی اور سجاد ہمارے ساتھ نہیں ہیں کافی تشویش ہویئ لیکن چونکہ دونوں حضرات علاقے سے اچھی طرح واقف اور تجربہ کار تھے اس لیے ان کے بھٹکنے کا اندیشہ نہ تھا۔موقع غنیمت جان کر ہم نے بائیکس سڑک کنارے کھڑی کیں اور روڈ پر چت لیٹ گےٗ،سڑک نے کسی مہربان ماں کی طرح ہمیں اپنی آغوش میں لے لیا،سکون کی لہریں پورے وجود میں سرایت کر گئیں،سب اس طرح باجماعت سڑک پر لیٹے ہوےٗ تھے جیسے یوگا کا کویئ آسن کر رہے ہوں۔آدھے گھنٹے تک علی اور سجاد بھی آن پہنچے،وہ راولہ کوٹ سے نکلتے ہی تھوڑا بھٹک گےٗ تھے جس کی وجہ سے وہ لیٹ ہوگےٗ،راستے میں کتوں نے بھی انکی مزاج پرسی کی کوشش کی تھی۔۔
لو جی سفر پھر شروع ہوگیا اور ہم دل کو تسلی دینے کیلیے گنگنا رہے تھے کہ چلے،تو کٹ ہی جاےٗ گا  سفر۔۔


رات بارہ بجے ہم کوہالہ پل عبور کر رہے تھے،وہاں ایک چیک پوسٹ پر ہمارے شناختی کارڈز اور لایئسنس چیک کیے گےٗ،ایک دو دوستوں کے پاس کاغذات کم تھے توپنجاب پولس والہ معروف طریقہ کام آگیا۔۔یعنی قائداعظم کی سفارش سے کام چل گیا،پنجاب پولیس کی طرح کشمیر پولیس والے بھی قائد کے مداح نکلے اور تبرک کے طور پر قائد اعظم کی تصویر والی چند’پرچیاں‘ لے کر ہمیں آگے جانے کی اجازت دے دی،اب ہمارے بائیں ہاتھ پر بپھرا ہوا دریاےٗ جہلم تھا اور اسکے اوپر تھکے ماندے ہم محوِسفر تھے۔مزید ایک گھنٹے کے بعد ہم مظفر آباد داخل ہورہے تھے تو یقین نہ آ رہا تھا کہ پورے چوبیس گھنٹے سے جاری سفر بلآخر اختتام کو پہنچ چکا ہے۔۔شہر کے اندر ایک ہوٹل کے باہر مرغِ مسلم لٹکے ہوےٗ گروپ کی بھوک کو چیلنج کر رہے تھے،میاں لکی نے یہ چیلنج قبول کیا اور سب کو ہوٹل کے آگے رکنے کا کہا ابھی آرڈر دے کر فارغ ہوےٗ ہی تھے کہ علی بھایئ بھی آن پہنچے انہوں نے ہدایت جاری کی کہ پہلے ہوٹل پہنچ کر اپنا سامان رکھیں پھر جس نے کھانا کھانا ہو وہ آ کر کھا لیں،میں بھی صبح ایک بجے کھانے کے حق میں نہ تھا،اسطرح پہلے ہوٹل پہنچے،ہوٹل کچھ عجیب سا لگا،ایک تو وہ پہلے ہی سڑک سے کافی نیچے جا کر آیا تھا اور جب ہم رسیپشن سے آگے گےٗ تو لڑکا ہمیں زینے پر لے گیا جہاں سیڑھیاں نیچے ہی نیچے جا رہیں تھیں،ساتھ میں پانی کی موجوں کا شور بھی تھا۔۔وہ ہوٹل دراصل بلکل دریا کے کنارے پر تھا چونکہ سڑک اور آبادی بلندی پر تھی اسلیے ہمیں عجیب لگا تھا،ہوٹل چار منزلہ تھا اور ساری منزلیں استقبالیہ سے نیچے ہی تھیں،ہوٹل کے سیدھے ہاتھ کھڑکیوں کے باہر دریاےٗ جہلم شور مچاتا ہوا چل رہا تھا،سب سے نچلی منزل پر ہمارے کمرے تھے اور مجھے مشہورزمانہ فلم ٹائٹینک یاد آگیٗ


دریا کی لہروں کا شور بڑا ہیجان خیز لگ رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ اگر رات سوتے میں دریا مزید سرکشی کرکے ہمارے کمروں میں گھس آیاتو ٹائٹینک کا آخری سین حقیقت کا روپ ڈھال لے گا۔۔جلدی جلدی سامان کھول کر اپنے بستر لگاےٗ،کپڑے تبدیل کیے اور موبائل چارجنگ پر لگاےٗ۔میرے اور علی کے علاوہ سب کھانے کیلیے نکل گےٗ جبکہ ہم فٹافٹ نیند کی وادی میں اتر گےٗ۔


باقی کی سنسنی خیز روداد اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں
Share on Google Plus

About Ghoom ja

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.
    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments :

Post a Comment