خدمت یا سیاسی روزگار پروگرام

 خدمت یا سیاسی روزگار پروگرام
تحریر عبدالجبار دریشک

حکومت کے اتحادی مونس الہٰی بلدیاتی نظام کے خلاف سامنے آگئے۔

ق لیگ کے رہنما مونس الہٰی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا 4 ہزار یونین کونسلز، 24 ہزار ویلیج کونسلز اور پنچائیت بھی ہو گی، انتظامی اخراجات میں 6 گنا اضافہ ہو جائے گا، نئے بلدیاتی نظام میں سالانہ 8 ارب تنخواہوں کی مد میں جائیں گے۔


مونس الہی کی بات کافی حد تک ٹھیک ہے تحریک انصاف نئے بلدیاتی نظام کچھ ایسی پالسی بنا رہی ہے جس میں برادری سسٹم فعال ہو جب انہیں خود ووٹ لینا تھا انہوں نے نوجوانوں کو برادری سے الگ اور باغی بنا کر اپنے لیے ووٹ لیا اب انہیں خدشہ ہے نوجوان ان سے دور ہو رہے ہیں لہذا بزرگوں برادری کے بڑوں کے ذریعے انہیں قابو رکھا جائے

اس لیے نئے بلدیاتی نظام کو گلی محلے تک لایا جا رہا ہے ہر چالیس پچاس گھروں کا کوئی سربراہ سامنے آئے اسے کسی نہ کسی جگہ پر ایڈجسٹ کر کے ووٹ بنک بنایا جائے

دوسرا فائدہ ان کو بڑے سیاست دانوں کے ووٹ بنک ٹوڑنے کا ہوگا اس کے باوجود عوام کو طاقت ملنے کی بجائے اقتدار چند خوشامدی اور چاپلوسوں کے پاس ہوگا جو بڑے سیاست دانوں کے قریب ہوں گے گلی کی سولنگ ، کمھبا ،ٹرانسفامر سب ان کے کہنے پر لگیں گے جو صرف اپنے لوگوں کو نوازیں گے

بات آخرجات کی ہے تو گزشتہ حلقہ بندویوں میں یونین کونسلز اور صوبائی و قومی حلقوں کی تعداد میں آضافہ کیا گیا جس کا فائدہ عوام کو ہوا ہے اور قومی خزانے پر بوجھ بھی بڑھا ہے لیکن شکر ہے کچھ مزید لوگوں کو سیاسی روزگار پر ایڈجسٹ کر کے بے روزگاری کو کم کیا گیا ہے

نیا بلدیاتی نظام بھی وہی نوکریوں کی بارش ہے جو نوکر گیری کریں گے انہیں یہ نوکری ملے گی
Share on Google Plus

About Ghoom ja

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.
    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments :

Post a Comment