Birth of the twins بھنڈی کے پتوں سے جڑواں بچوں کی پیدائش

بھنڈی کے پتے کھانے سے جڑواں بچے پیدا ہوتے ہیں


جڑواں بچے شاید کئی ہزار جوڑوں کے میں سے کسی ایک کے ہاں پیدا ہوتے ہیں اور وہ والدین خوش قسمت کہلاتے ہیں جن کے ہا جڑواں یا تین چار بچے بیک


وقت ہوتے ہیں

جڑواں بچوں کی پیدا کسی انسان یا ادویات کے اختیار میں نہیں بلکہ یہ اللہ پاک کی قدرت و حکمت سے ہوتا ہے اللہ پاک جسے چاہے اولاد سے نوازے اور جسے چاہے زندگی بھر اس نعمت سے محروم رکھے۔ دنیا میں ایسے بھی جوڑے ہیں جن کی اولاد نہیں وہ دوسروں کے بچے گود لینے کے لیے ترستے ہیں جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی اولاد کسی مجبوری غربت بھوک افلاس کی وجہ سے فروخت کر دیتے ہیں


بات جڑواں بچوں کی پیدائش کے حوالے سے ہو رہی تھی تو دنیا میں ایک ایسا ملک ہے جس کےخاندان میں صرف جڑواں بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اس علاقے لوگ جڑواں ہونے کی وجہ سے سب ایک دوسرے کے ہم شکل لگتے ہیں

یہ علاقہ افریقی ملک نائجیریا کا ہے جس اگبو اورا ہے یہ ایک قصبہ ہے جہاں جڑواں بچوں کی شرح پیدائش دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ اس علاقے کے رہنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں جڑواں بچے بھنڈی کے پتے کھانے سے ہوتے ہیں  بلکہ ان کا یہ بھی کہنا ہے اس علاقے میں جو سیاح جوڑے آتے ہیں اور وہ بھی بھنڈی کے پتے کھاتے ہیں تو ان کے ہاں بھی جڑواں بچے پیدا ہوتے ہیں

ان کے بارے میں کسی ماہر سائنس دان نے ابھی تک کو تحقیق پیش نہیں کی البتہ مقامی ڈاکٹرز اور گائنا کالوجسٹ کا کہنا ہے کہ جڑواں بچوں کی پیدا کی وجہ ان کا آپس میں خاندان میں شادی کرنا ہے جو ایک خاندانی سلسلہ ہے جو ان کے جینز میں اتنی طاقت ہے کہ ان کے ہاں جڑواں بچے پیدا ہوتے ہیں ورنہ ایسی کوئی وجہ نہیں کہ ان کے ہاں جڑواں بچے بھنڈی کے پتے کھانے سے پیدا ہوتے ہیں


بھنڈی کے بارے میں یہ ضرور کہا جاتا ہے کہ یہ ایک طاقتور سبزی ہے جس میں بہت ساری بیماریوں کا علاج ہے بلکہ مردانہ قوت میں آضافے کا سبب بھی بنتی ہے


ماہرین کے نزدیک بھنڈی کے بیج اور پتوں میں فلیونوائڈ اور فینول موجود ہوتے ہیں جو ڈپریشن سے نجات دلاتے ہیں۔ یہ وہی اجزا ہیں جو ڈپریشن سے نجات دلانے والی دواؤں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ لیکن جڑواں بچوں کی پیدائش کا حوالہ کہیں نہیں ملتا


لیکن یہ بات بھی قابل تسلیم ہے کہ گزشتہ چند صدیوں کی نسبت موجودہ اور بچھلی صدی میں جڑواں بچوں کی تعداد میں آضافہ ہوا ہے ماہرین کی ایک تحقیق کا ایک حوالہ ملتا ہے جس میں ان ماہرین کا کہنا ہے کہ 1980 کے بعد دنیا بھر میں جڑواں بچوں کی پیدائش میں تیزی آگئی ہے، صرف امریکا میں ہی 2014 میں ایک لاکھ 35 ہزار 336 جڑواں بچے پیدا ہوئے، جب کہ ہر سال ان میں اضافہ ہوا۔ اس حساب سے تو نائجیریا کے قصبہ اگبوا اورا کے لوگ امریکہ سے بھی آگے ہوں گے بلکہ ان کا نمبر پوری دنیا میں جڑواں بچے پیدا کرنے میں زیادہ ہے

تحریر و تحقیق  : عبدالجبار دریشک

Share on Google Plus

About Ghoom ja

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.
    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments :

Post a Comment