اے میرے پیارے خدا میری دعا ہے کہ ہمارے سکول میں اس سال چھٹیاں نہ ہوں
ملک محمد رفیع شاکر
یہ ایک ایسی بچی کی دعا ہے جو کہ گزشتہ چار سال سے پرائیویٹ سکولوں میں پڑھا
رہی ہے
گرمیوں کی چھٹیوں کی آمد آمد ہے. پرائیویٹ سکولوں کی لوٹ مار جاری ہے۔
*بچوں کے والدین کی کنپٹی پر پستول رکھ کر فیس نکلوائیں گے۔ تب تک چھٹیاں نہیں دیں گے جب تک بچے فیس نہ لے آئیں۔*
گرمیوں کی چھٹیوں کی آمد آمد ہے. پرائیویٹ سکولوں کی لوٹ مار جاری ہے۔
*بچوں کے والدین کی کنپٹی پر پستول رکھ کر فیس نکلوائیں گے۔ تب تک چھٹیاں نہیں دیں گے جب تک بچے فیس نہ لے آئیں۔*
*کے پی کے صوبہ نے تو سنا ہے ترمیمی آرڈیننس سے کچھ اقدامات کئے ہیں جیسے چھٹیوں کی تنخواہکم از کم تنخواہ پندرہ ہزار اور بینک کے ذریعے تنخواہ کی ادائیگی لیکن پنجاب اور سارے ملک میں قانون سازی کی ضرورت ہے*۔
*جب کہ کئی صحافت کی نمائندگی کی آڑ لے کر اپنے ظلم جاری رکھے ہوئے ہیں اور کئی بڑے بڑے نجی سکول کالج کے گروپوں کے مالکان بڑے بڑے میڈیا ھاؤس بنا کرحکومتوں اور خاص طور پر بیوروکریسی کو اس بات سے دور رکھنے کی کوشش میں ہیں کہ وہ ان کے ان مظلوم پرائیویٹ و پیف پارٹنر سکولز ٹیچرز کی نا سنے*۔
*اب ان چھٹیوں میں جب کہ رمضان شریف بھی ہو گا اور بلا کی گرمی بھی، مگر غریب گھروں کی بچیوں کی دعا ہے کہ چھٹیاں نہ ہی ہوں۔
*کیونکہ اکثر بچیاں اپنے گھروں کے اخراجات سکولوں میں پڑھا کے پورے کرتی ہیں اور یہ سکولوں کے مالک ان بچیوں کا جی بھر کے استحصال کرتے ہیں۔*
*کیونکہ اکثر بچیاں اپنے گھروں کے اخراجات سکولوں میں پڑھا کے پورے کرتی ہیں اور یہ سکولوں کے مالک ان بچیوں کا جی بھر کے استحصال کرتے ہیں۔*
*ان کو ایک مزدور کا چوتھائی بطور تنخواہ کے دیتے ہیں اور جی بھر کے بے عزت کرتے ہیں۔دو منٹ لیٹ آنے پر بے عزتی الگ اور ایک ایک چھٹی پر تنخواہ الگ کاٹتے ہیں۔*
*اوپر جس بچی کی دعا کا ذکر کیا ہے اس کو ہر سال چھٹیوں کی تنخواہ نہیں دی جاتی کہ تیرا پہلا سال ہے اس لئے اس سال نہیں ملے گی۔ اگلے سال سے تنخواہ ملے گی۔ اور مارچ کا سیشن ختم ہوتے ہی مجبور کر دیا جاتا ہے کہ وہ سکول چھوڑ دے۔*
*مجبور کرنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ان میں سے ایک بار بار ہیڈ مسٹریس سے یا کوارڈینیٹر سے بے عزت کروانا۔بہت زیادہ کام دے دینا۔ اتنا کہ نہ تو سکول میں ختم ہو اور نہ ہی گھر جا کر یہاں تک کہ ٹیچرز راتوں کو جاگ جاگ کر بھی کام کرتی ہیں۔ لیکن ختم نہ کر سکنے کی وجہ سے پھر سے بے عزتی۔پھر وہ کام کرنے کو کہا جاتا ہے جو کہ اس کو ذلت کا احساس دلائیں، مثلاً پانی لے کر آؤ۔ ۔ ۔ دروازہ بند کرو۔ ۔ ۔ یہ صفائی کرو۔ ۔ ۔ یہ کتابوں کاپیوں کی ترتیب لگاؤ۔ ۔ ۔ بچوں کو دروازے پر ویلکم کرو۔ ۔ ۔ ماں باپ کی ڈانٹ سنو۔ ۔ ۔ غرض بہت سے اور ایسے کام۔اس کے بعد سکولوں میں ہونے والا جنسی استحصال ہے۔ جو کہ تقریباً ہر ایسے سکول میں دیکھا گیا ہے جس کا مالک سکول میں بیٹھتا ہے۔اس کے دو پہلو ہیں۔ یا تو اس خواہش کو پورا کرو۔ ۔ ۔ اور کرتے چلے جاؤ۔ ۔ ۔ ورنہ اپنی سیکیوریٹی چھوڑ دو اور دس دن کی تنخواہ چھوڑ دو اور سکول چھوڑ جاؤ۔بہت سی ٹیچرز کے تو اوریجنل ڈاکومنٹس بھی نہیں دیئے جاتے۔ جیسے کہ میں نے گوجرانوالہ کے ایک الائیڈ سکول کی مثال پہلے بھی دی تھی۔ اس نے مذکورہ ٹیچر کی نہ تنخواہ دی ہے اور نہ ہی ایم اے کا رزلٹ کارڈ۔*
*تو اس طرح جنسی استحصال کو دو دھاری تلوار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ سکولوں کے مالک خود نکالیں تو انہیں سکیوریٹی کے طور پر ضبط کی ہوئی دو تنخواہیں دینا پڑتی ہیں۔*
*مجبور کرنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ان میں سے ایک بار بار ہیڈ مسٹریس سے یا کوارڈینیٹر سے بے عزت کروانا۔بہت زیادہ کام دے دینا۔ اتنا کہ نہ تو سکول میں ختم ہو اور نہ ہی گھر جا کر یہاں تک کہ ٹیچرز راتوں کو جاگ جاگ کر بھی کام کرتی ہیں۔ لیکن ختم نہ کر سکنے کی وجہ سے پھر سے بے عزتی۔پھر وہ کام کرنے کو کہا جاتا ہے جو کہ اس کو ذلت کا احساس دلائیں، مثلاً پانی لے کر آؤ۔ ۔ ۔ دروازہ بند کرو۔ ۔ ۔ یہ صفائی کرو۔ ۔ ۔ یہ کتابوں کاپیوں کی ترتیب لگاؤ۔ ۔ ۔ بچوں کو دروازے پر ویلکم کرو۔ ۔ ۔ ماں باپ کی ڈانٹ سنو۔ ۔ ۔ غرض بہت سے اور ایسے کام۔اس کے بعد سکولوں میں ہونے والا جنسی استحصال ہے۔ جو کہ تقریباً ہر ایسے سکول میں دیکھا گیا ہے جس کا مالک سکول میں بیٹھتا ہے۔اس کے دو پہلو ہیں۔ یا تو اس خواہش کو پورا کرو۔ ۔ ۔ اور کرتے چلے جاؤ۔ ۔ ۔ ورنہ اپنی سیکیوریٹی چھوڑ دو اور دس دن کی تنخواہ چھوڑ دو اور سکول چھوڑ جاؤ۔بہت سی ٹیچرز کے تو اوریجنل ڈاکومنٹس بھی نہیں دیئے جاتے۔ جیسے کہ میں نے گوجرانوالہ کے ایک الائیڈ سکول کی مثال پہلے بھی دی تھی۔ اس نے مذکورہ ٹیچر کی نہ تنخواہ دی ہے اور نہ ہی ایم اے کا رزلٹ کارڈ۔*
*تو اس طرح جنسی استحصال کو دو دھاری تلوار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ سکولوں کے مالک خود نکالیں تو انہیں سکیوریٹی کے طور پر ضبط کی ہوئی دو تنخواہیں دینا پڑتی ہیں۔*
*اس بچی نے سکولوں میں پڑھاتے ہوئے اپنے گھر کا خرچہ بھی چلایا ہے اور اپنی تعلیم بھی جاری رکھی ہے۔ اس طرح اس نے ایم اے تو کر لیا ہے لیکن اس کو پھر سے اسی مصیبت کا سامنا ہے کہ اس کو ان تین مہینوں کی تنخواہ نہیں ملے گی۔*
*یہ لوگ بات بات پر تنخواہیں کاٹ کر۔ ۔ ۔ ہیڈمسٹریسوں اور کوارڈینیٹروں سے بے عزت کروا کر ایک تو اپنی جہالت، نالائقی، ناخواندگی اور نا اہلی کی تسکین کرتے ہیں اور دوسرا جنسی استحصال کی راہ ہموار کرتے ہیں۔*
*اس جنسی استحصال کی ایک جڑ ٹیچر کی تنخواہ میں ملتی ہے۔ یہ بہت کم ہے۔ ایک مزدور کی تنخواہ (آٹھ سو روپے دیہاڑی۔ ۔ ۔ بیس ہزار روپے مہینہ) کے برابر تو بیکن ھاؤس اور ایل جی ایس بھی کسی کسی کو ہی دیتے ہیں۔ گیارہ بارہ ہزار پر TA اور AT کے نام سے جانوروں والا کام لیتے ہیں۔ صبح ساڑھے سات بجے سے چار چار بجے اور بعض اوقات پانچ پانچ اور چھ چھ بجے تک۔ کرنا کیا ہے، کاغذ کاٹو اور دیواروں پہ چپکاؤ۔ ۔ ۔ اور یہ سعی لاحاصل ہر روز کرو۔ ۔ ۔ ہر ہفتے پرانے کاغذ اتار دو نئے لگاؤ۔ ۔ ۔ "کسٹمرز کو ہر ویک میں ایک نئی لُک ملے دیکھنے کو"۔*
*میں پہلے بھی سوچا کرتا تھا جب چمکتے سٹورز، مال اور ان کی ٹائیلوں اور شیشوں کو دیکھتا تو حیران ہوتا یہ اتنے صاف کیوں کر ہیں۔ پھر بعد میں وہ لڑکے نظر آتے جو ہر دس منٹ بعد ان کو کپڑوں ٹاکیوں سے رگڑ رگڑ کا صاف کر رہے ہوتے۔ ۔ ۔ اور ساری دنیا میں کروڑوں انسان صرف یہ شیشے اور ٹائیلیں رگڑ رگڑ کر اس مٹی سے جان چھڑوا رہے ہوتے ہیں جس سے یہ سٹور، مالز، ان کی ٹائیلیں، شیشے اور خود ان کے مالکان بنے ہیں۔*
*اب اس کم تنخواہ میں، جس میں یہ ٹیچرز کام کرتی ہیں ان کو ترقی کے لالچ دینا، بہکانا اور پھسلانا اور بے عزتی سے بچانا مالکان کے لئے کس قدر آسان ہے، ہر کوئی جانتا ہے۔*
*مالکان نے ایچ آر ایم کی طرز کے کتے پالے ہوتے ہیں جو خود مزدور ہونے کے باوجود اپنے جیسوں کو بھونک بھونک کے مالک کے تلوے چاٹنے پر مجبور کرتے ہیں۔ جب کہ مالک خود فرشتہ بن کر ہمدردیاں جیتتے اور اپنی راہ ہموار کرتے ہیں۔غرض جہاں دیکھیں گے کہانیاں ملیں گی۔*
*اور کہانیاں مطمئن لوگوں اور مطمئن گھرانوں کی تو ہوتی نہیں*۔
*جس بچی کی کہانی میں نے شروع کی تھی اس کو ہر سال ان میں سے کسی نہ کسی وجہ سے نکلنا پڑ جاتا ہے۔ اب وہ جس سکول میں ہے اس سے اس کو چھٹیوں کی تنخواہ نہیں ملے گی۔ باقی سب خیر ہے۔ البتہ سکول کے مالک نے فیس اکٹھی کرنے کی حکمت عملی بنا لی ہے کہ کیسے وہ بچوں سے دو ماہ کی اکٹھی فیس ہتھیائے گا۔*
*اگر خیبر پختون خواہ میں پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ کے لئے قانون سازی ہو سکتی ہے، تو پنجاب اور باقی ملک میں کیوں نہیں؟*
*لیکن سب سے ضروری امر یہ ہے کہ سکولوں کی ٹیچرز کو سیکشوئل ہراسمنٹ کے قوانین کا بتایا جائے۔*
-
*کچھ پوائنٹس پر غور کیا جا سکتا ہے۔*
۔*1۔ ہر پرائیویٹ ادارے میں یہ چارٹ نمایاں جگہ لگانے کی سختی کی جائے جس میں خاتون ٹیچروں کو اس بات کی جانکاری دی جائے کہ وہ اپنا کام کرنے کے پیسے لیتی ہیں کوئی رعایت یا بھیک نہیں لیتیں۔ اور یہ کہ اگر کوئی انہیں جنسی ترغیب دیتا ہے، یا کسی انعام، لالچ یا خوف سے استحصال کرتا ہے تو وہ کس نمبر پر کال کر کے شکایت کر سکتی ہیں۔*
*2۔ ٹیچروں کے سکولوں کے اوقات کی مانیٹرنگ کی جائے۔ بیکن ھاؤس وغیرہ اس معاملے میں گندے ترین کردار کے حامل ہیں۔ انہیں اس بات پر پابند کیا جائے کہ اپنے کام کرنے کے اوقات کو بتائیں اور ان کی پابندی کریں۔*
*3۔ چھٹیوں کی تنخواہ ہر ٹیچر کو پہلے ہی سال بطور حق دلوائیں۔*
*4۔ گھر لے جانے کے لئے کام دینے پر پابندی۔ کیوں کہ ٹیچرز صرف سکول کی ٹائمنگز کی تنخواہ پاتی ہیں۔ انہوں نے گھروں میں جا کر نہ صرف کام کرنا ہوتے ہیں بلکہ سونا بھی ہوتا ہے۔*
*5۔ نیچر آف جاب بتائی جائے کہ کیا ہے۔ یہ نہیں کہ ہر کام ٹیچر سے کروایا جائے۔*
*6۔ والدین پرنسپل سے شکایت کریں۔ ٹیچر کو پرنسپل سمجھائے، والدین سے ڈانٹ نہ پڑوائی جائے*۔
*7۔ کمیٹیوں میں سکول مالکوں کے نمائندے رکھنے کی سفارش ہوئی ہے اور والدین کے بھی۔ لیکن پرائیویٹ سکولوں کے ٹیچرز کے نمائندوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ان کو یونین سازی کا حق دیا جائے۔ اور ان کی یونینیں بنائی جائیں۔*
*8۔ سکولوں میں دو منٹ لیٹ آنے پر تنخواہ کاٹی جاتی ہے۔ جب کہ دو گھنٹے زیادہ کام کروانے پر کچھ نہیں دیا جاتا۔ اس پر بھی غور ہونا ضروری ہے۔*
۔
*مزید باتیں بھی سوچی جا سکتی ہیں۔ لیکن قانون سازی کے لئے آواز اٹھانا ضروری ہے۔ٹیچرز ساتھیوں سے تعاون کی اپیل ہے۔*
*تمام دوستوں سے التجا ہے کہ اس پوسٹ کو ان پرائیویٹ مظلوم اور غریب ٹیچرز کے لئے شیئر کریں یا کچھ نہ کچھ اس موضوع پر ضرور لکھیں*۔
ملک محمد رفیع شاکر روز نیوز راجن پور ۔ آر ایس نیوز ڈائریکٹر ۔ آر ایس انفو ورلڈ ڈاٹ کام اینڈ یو ٹیوب چینل۔ سوشل میڈیا ایکٹی ویسٹ۔ سوشل ورکر ۔03136448222


Nice and thanks bro really it's a big issue in Punjab & Pakistan poor private teachers are be affronted by owners of schools . They are humiliating the teachers we should raise voices to stop it they can't do this because they are weak poor and frightened to lost this little salary job but it is life of them to survive ... Rafi shakir journalist
ReplyDelete