ماہ رمضان کی آمد پر تین ہزار حلیم پکانے والے ہوٹل کس شہر میں کھل جاتے ہیں
حلیم دراصل ایک عربی ڈش ہے جو مغل دورمیں افغانستان اور ایران سے ہوتے ہوئے برضیعر میں پہنچی۔
بھارتی شہر حیدرآباد میں رمضان کی پسندیدہ ڈش حلیم کی بھٹیوں کی تیاری کا کام شروع ہوچکا ہے۔ شہر کی مختلف ہوٹلوں میں یہ بھٹیاں تعمیر کی جاتی ہیں تاکہ ان بھٹیوں میں حلیم تیار کی جاسکے۔ تاریخی چارمینار کے علاقہ میں صدیوں قدیم بازار ہوں یا پھر دونوں جڑواں شہر حیدرآباد و سکندرآباد کے دوسرے علاقے، ہوٹلوں کے سامنے حلیم کی بھٹیاں لگائی جاتی ہیں۔
حلیم تیار کرنے والے ماہراستاد اپنے شاگردوں کے ساتھ بڑی ہی محنت سے بڑی بڑی دیگ میں حلیم بناتے ہیں۔ یہ مکمل پکوان جو دس تا 12گھنٹوں تک جاری رہتا ہے لکڑیوں کی آگ پر تیار کیا جاتا ہے۔
گوشت، گندم کے دانے ، دالوں اور مصالحہ جات سے تیار کی جانے والی حلیم دراصل ایک عربی ڈش ہے جو مغل دورمیں افغانستان اور ایران سے ہوتے ہوئے حیدرآباد پہنچی۔
ہندوستانی مصالحہ جات، خشک میوے جات، گھی اورپکوان کے منفرد طریقہ سے اس سیال ڈش کو ہندوستانی رنگ دیا گیا ہے اور اس کی تیاری میں حیدرآباد کوبھارت بھر میں منفرد مقام حاصل ہے۔
شہر حیدرآباد کے نواحی علاقوں میں بھی یہ حلیم دستیاب ہوتی ہے۔ جبکہ کئی لوگ حلیم کا مزہ چکھنے کے لئے پرانا شہر کا رخ کرتے ہیں۔ پرانے شہر بالخصوص شاہ علی بنڈہ کی سڑک پر افطار سے پہلے اور افطار کے بعد لوگ حلیم کی خریداری میں مصروف دیکھے جاتے ہیں۔
پرانے شہر کی ہوٹلوں کی حلیم کا منفرد انداز لوگوں کو راغب کرتا ہے۔رمضان کے مہینے میں ذائقوں سے بھرپور یہ ڈش حلیم حیدرآبادکی علامت سمجھی جانے والی بریانی کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ایک اندازہ کے مطابق شہر حیدرآباد میں تقریبا تین ہزا ر ہوٹلوں میں حلیم کی تیاری اور فروخت کا کام کیاجاتا ہے۔ ان میں کئی عارضی ہوٹلیں بھی شامل ہیں جو صرف حلیم کے لئے رمضان میں لگائی جاتی ہیں۔اب چکن حلیم کے ساتھ ساتھ وجیٹیرین حلیم کی تیاری بھی کی جارہی ہے۔ایک پلیٹ مٹن کی حلیم کی قیمت 130تا140روپئے ہے جبکہ ایک پلیٹ چکن کی حلیم کی قیمت 50تا80روپئے ہے۔
حلیم دراصل ایک عربی ڈش ہے جو مغل دورمیں افغانستان اور ایران سے ہوتے ہوئے برضیعر میں پہنچی۔
بھارتی شہر حیدرآباد میں رمضان کی پسندیدہ ڈش حلیم کی بھٹیوں کی تیاری کا کام شروع ہوچکا ہے۔ شہر کی مختلف ہوٹلوں میں یہ بھٹیاں تعمیر کی جاتی ہیں تاکہ ان بھٹیوں میں حلیم تیار کی جاسکے۔ تاریخی چارمینار کے علاقہ میں صدیوں قدیم بازار ہوں یا پھر دونوں جڑواں شہر حیدرآباد و سکندرآباد کے دوسرے علاقے، ہوٹلوں کے سامنے حلیم کی بھٹیاں لگائی جاتی ہیں۔
حلیم تیار کرنے والے ماہراستاد اپنے شاگردوں کے ساتھ بڑی ہی محنت سے بڑی بڑی دیگ میں حلیم بناتے ہیں۔ یہ مکمل پکوان جو دس تا 12گھنٹوں تک جاری رہتا ہے لکڑیوں کی آگ پر تیار کیا جاتا ہے۔
گوشت، گندم کے دانے ، دالوں اور مصالحہ جات سے تیار کی جانے والی حلیم دراصل ایک عربی ڈش ہے جو مغل دورمیں افغانستان اور ایران سے ہوتے ہوئے حیدرآباد پہنچی۔
ہندوستانی مصالحہ جات، خشک میوے جات، گھی اورپکوان کے منفرد طریقہ سے اس سیال ڈش کو ہندوستانی رنگ دیا گیا ہے اور اس کی تیاری میں حیدرآباد کوبھارت بھر میں منفرد مقام حاصل ہے۔
شہر حیدرآباد کے نواحی علاقوں میں بھی یہ حلیم دستیاب ہوتی ہے۔ جبکہ کئی لوگ حلیم کا مزہ چکھنے کے لئے پرانا شہر کا رخ کرتے ہیں۔ پرانے شہر بالخصوص شاہ علی بنڈہ کی سڑک پر افطار سے پہلے اور افطار کے بعد لوگ حلیم کی خریداری میں مصروف دیکھے جاتے ہیں۔
پرانے شہر کی ہوٹلوں کی حلیم کا منفرد انداز لوگوں کو راغب کرتا ہے۔رمضان کے مہینے میں ذائقوں سے بھرپور یہ ڈش حلیم حیدرآبادکی علامت سمجھی جانے والی بریانی کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ایک اندازہ کے مطابق شہر حیدرآباد میں تقریبا تین ہزا ر ہوٹلوں میں حلیم کی تیاری اور فروخت کا کام کیاجاتا ہے۔ ان میں کئی عارضی ہوٹلیں بھی شامل ہیں جو صرف حلیم کے لئے رمضان میں لگائی جاتی ہیں۔اب چکن حلیم کے ساتھ ساتھ وجیٹیرین حلیم کی تیاری بھی کی جارہی ہے۔ایک پلیٹ مٹن کی حلیم کی قیمت 130تا140روپئے ہے جبکہ ایک پلیٹ چکن کی حلیم کی قیمت 50تا80روپئے ہے۔
0 comments :
Post a Comment